22 اشعار

دستک

Dastak

دستک

«دستک» مجید امجد کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 14 سیکنڈ ہے۔

کس نے دروازہ کھٹکھٹایا ہےجا کے دیکھوں تو کون آیا ہے

کون آیا ہے میرے دوارے پررات آئی کہاں بچارے پر

میرے چھپر سے ٹیک کر کاندھاکون استادہ ہے تھکا ماندہ

میری کٹیا میں آؤ سستا لویہ مرا ساغر شکستہ لو

میری چھاگل سے گھونٹ پانی پیواک نئے عزم کی جوانی پیو

ٹمٹماتے دیے کی جھلمل میںجوت سلگا لو اک نئی دل میں

یہ مرے آنسوؤں کی شبنم لوپاؤں کے آبلوں کی مرہم لو

یہ مجھے افتخار دو بیٹھوسر سے گٹھڑی اتار دو بیٹھو

میرے زانو پر اپنا سر رکھ کرطاق پر کاہش سفر رکھ کر

نیند کی انجمن میں کھو جاؤمنزلوں کے سپن میں کھو جاؤ

خواب وادی و کہسار کے خوابدشت و دریا و آبشار کے خواب

خواب اندھیری طویل راہوں کےکنج صحرا کی خیمہ گاہوں کے

جہاں اک شمع ابھی فروزاں ہےجہاں اک دل تپاں ہے سوزاں ہے

تم لپٹ جاؤ ان خیالوں سےاور میں کھیلوں تمہارے بالوں سے

صبح جب نور کا فسوں برسےسونی پگڈنڈیوں پہ خوں برسے

باگ تھامے حسیں ارادوں کیتم خبر لو پھر اپنے جادوں کی

جب تلک زیست کا سفینہ بہےاجنبی اجنبی کو یاد رہے

مجھ کو یہ اپنی یاد دے جاؤآؤ بھی کیوں جھجھکتے ہو آؤ

تم کہاں ہو کہاں جواب تو دواو مرے میہماں جواب تو دو

تم نے دروازہ کھٹکھٹایا تھاکس کی دستک تھی کون آیا تھا

نیم شب قافلے ستاروں کےتیز ہرکارے ابر پاروں کے

کس نے نیندوں کو میری ٹوکا تھاکوئی جھونکا تھا کوئی دھوکا تھا

— مجید امجد