28 اشعار

ساتھی

Saathi

ساتھی

«ساتھی» مجید امجد کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 14 سیکنڈ ہے۔

پھول کی خوشبو ہنستی آئیمیرے بسیرے کو مہکانے

میں خوشبو میں خوشبو مجھ میںاس کو میں جانوں مجھ کو وہ جانے

مجھ سے چھو کر مجھ میں بس کراس کی بہاریں اس کے زمانے

لاکھوں پھولوں کی مہکاریںرکھتے ہیں گلشن ویرانے

مجھ سے الگ ہیں مجھ سے جدا ہیںمیں بیگانہ وہ بیگانے

ان کو بکھیرا ان کو اڑایادست خزاں نے موج صبا نے

بھولا بھٹکا ناداں قطرہآنکھوں کی پتلی کو سجانے

آنسو بن کر دوڑا آیامیری پلکیں اس کے ٹھکانے

اس کا تھرکنا، اس کا تڑپنامیرے قصے میرے فسانے

اس کی ہستی میری ہستیاس کے موتی میرے خزانے

باقی سارے گوہر پارےخاک کے ذرے ریت کے دانے

پربت کی اونچی چوٹی سےدامن پھیلایا جو گھٹا نے

ٹھنڈی ہوا کے ٹھنڈے جھونکےبے خود آوارہ مستانے

اپنی ٹھنڈک لے کر آئےمیری آگ میں گھل مل جانے

ان کی ہستی کا پیراہنمیری سانس کے تانے بانے

ان کے جھکولے میری امنگیںان کی نوائیں میرے ترانے

باقی سارے طوفانوں کوجذب کیا پہنائے فضا نے

فطرت کی یہ گونا گونیگلشن بن وادی ویرانے

کانٹے کلیاں نور اندھیراانجمنیں شمعیں پروانے

لاکھوں شاطر لاکھوں مہرےپھیلے ہیں شطرنج کے خانے

جانتا ہوں میں یہ سب کیا ہیںصہبا سے خالی پیمانے

بھوکی مٹی کو سونپے ہیںدنیا نے اپنے نذرانے

جس نے میرا دامن تھاماآیا جو مجھ میں بس جانے

میرے طوفانوں میں بہنےمیری موجوں میں لہرانے

میرے سوز دل کی لو سےاپنے من کی جوت جگانے

زیست کی پہنائی میں پھیلےموت کی گیرائی کو نہ جانے

اس کا بربط میرے نغمےاس کے گیسو میرے شانے

میری نظریں اس کی دنیامیری سانسیں اس کے زمانے

— مجید امجد