7 اشعار

دل سے ہر گزری بات گزری ہے

Dil se har guzri baat guzri hai

دل سے ہر گزری بات گزری ہے

«دل سے ہر گزری بات گزری ہے» مجید امجد کا کلام ہے، جسے یادرفتگان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کیا روپ دوستی کا کیا رنگ دشمنی کا مجید امجد» میں 24 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

دل سے ہر گزری بات گزری ہےکس قیامت کی رات گزری ہے

چاندنی نیم وا دریچہ سکوتآنکھوں آنکھوں میں رات گزری ہے

ہائے وہ لوگ خوب صورت لوگجن کی دھن میں حیات گزری ہے

تمتماتا ہے چہرۂ ایامدل پہ کیا واردات گزری ہے

کسی بھٹکے ہوئے خیال کی موجکتنی یادوں کے سات گزری ہے

پھر کوئی آس لڑکھڑائی ہےکہ نسیم حیات گزری ہے

بجھتے جاتے ہیں دکھتی پلکوں پہ دیپنیند آئی ہے رات گزری ہے

— مجید امجد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں