8 اشعار

ایک ایک جھروکا خندہ بہ لب ایک ایک گلی کہرام

Ek ek jharoka khanda ba lab ek ek gali kohraam

ایک ایک جھروکا خندہ بہ لب ایک ایک گلی کہرام

«ایک ایک جھروکا خندہ بہ لب ایک ایک گلی کہرام» مجید امجد کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 17 سیکنڈ ہے۔

ایک ایک جھروکا خندہ بہ لب ایک ایک گلی کہرامہم لب سے لگا کر جام ہوئے بدنام بڑے بدنام

رت بدلی کہ صدیاں لوٹ آئیں اف یاد کسی کی یادپھر سیل زماں میں تیر گیا اک نام کسی کا نام

دل ہے کہ اک اجنبیٔ حیراں تم ہو کہ پرایا دیسنظروں کی کہانی بن نہ سکیں ہونٹوں پہ رکے پیغام

روندیں تو یہ کلیاں نیش بلا چومیں تو یہ شعلے پھولیہ غم یہ کسی کی دین بھی ہے انعام عجب انعام

اے تیرگیوں کی گھومتی رو کوئی تو رسیلی صبحاے روشنیوں کی ڈولتی لو اک شام نشیلی شام

رہ رہ کے جیالے راہیوں کو دیتا ہے یہ کون آوازکونین کی ہنستی منڈیروں پر تم ہو کہ غم ایام

بے برگ شجر گردوں کی طرف پھیلائیں ہمکتے ہاتپھولوں سے بھری ڈھلوان پہ سوکھے پات کریں بسرام

ہم فکر میں ہیں اس عالم کا دستور ہے کیا دستوریہ کس کو خبر اس فکر کا ہے دستور دو عالم نام

— مجید امجد