6 اشعار

اک سانس کی مدھم لو تو یہی اک پل تو یہی اک چھن تو یہی

Ek saans kī madham lau to yahī ek pal to yahī ek chhin to yahī

اک سانس کی مدھم لو تو یہی اک پل تو یہی اک چھن تو یہی

«اک سانس کی مدھم لو تو یہی اک پل تو یہی اک چھن تو یہی» مجید امجد کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 18 سیکنڈ ہے۔

اک سانس کی مدھم لو تو یہی اک پل تو یہی اک چھن تو یہیتج دو کہ برت لو دل تو یہی چن لو کہ گنوا دو دن تو یہی

لرزاں ہے لہو کی خلیجوں میں پیچاں ہے بدن کی نسیجوں میںاک بجھتے ہوئے شعلے کا سفر کچھ دن ہو اگر کچھ دن تو یہی

بل کھائے دکھے نظروں سے رسے سانسوں میں بہے سوچوں میں جلےبجھتے ہوئے اس شعلے کے جتن ہے کچھ بھی اگر کچھ دن تو یہی

میں ذہن پہ اپنے گہری شکن میں صدق میں اپنے بھٹکا ہواان بندھنوں میں اک انگڑائی منزل ہے جو کوئی کٹھن تو یہی

اس ڈھب سے جئیں سینوں کے شرر جھونکوں میں گھلیں قدروں میں تلیںکاوش ہے کوئی مشکل تو یہی کوشش ہے کوئی ممکن تو یہی

پھر برف گری اک گزری ہوئی پت جھڑ کی بہاریں یاد آئیںاس رت کی نچنت ہواؤں میں ہیں کچھ ٹیسیں اتنی دکھن تو یہی

— مجید امجد