8 اشعار

ایک شام

Ek Shaam

ایک شام

«ایک شام» مجید امجد کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔

ندی کے لرزتے ہوئے پانیوں پرتھرکتی ہوئی شوخ کرنوں نے چنگاریاں گھول دی ہیں

تھکی دھوپ نے آ کے لہروں کی پھیلی ہوئی ننگی بانہوں پہ اپنی لٹیں کھول دی ہیںیہ جوئے رواں ہے

کہ بہتے ہوئے پھول ہیں جن کی خوشبوئیں گیتوں کی سسکاریاں ہیںیہ پگھلے ہوئے زرد تانبے کی چادر پہ الجھی ہوئی سلوٹیں ہیں

کہ زنجیر ہائے رواں ہیںبس اک شور طوفاں

کنارا نہ ساحلنگاہوں کی حد تک

سلاسل سلاسلکہ جن کو اٹھائے ہوئے ڈولتی پنکھڑیوں کے سفینے بہے جا رہے ہیں

بہے جا رہے ہیںکہیں دور ان گھور اندھیروں میں جو فاصلوں کی ردائیں لپیٹے کھڑے ہیں

جہاں پر ابد کا کنارا ہے اور اک وہ گاؤںوہ گنے کے کیاروں پہ آتی ہوئی ڈاک گاڑی کے بھورے دھوئیں کی چھچھلتی سی چھاؤں

— مجید امجد