9 اشعار

جن لفظوں میں

Jin Lafzon Mein

جن لفظوں میں

«جن لفظوں میں» مجید امجد کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 14 سیکنڈ ہے۔

جن لفظوں میں ہمارے دلوں کی بیعتیں ہیں کیا صرف وہ لفظ ہمارے کچھ بھی نہ کرنےکا کفارہ بن سکتے ہیں

کیا کچھ چیختے معنوں والی سطریں سہارا بن سکتی ہیں ان کاجن کی آنکھوں میں اس دیس کی حد ان ویراں صحنوں تک ہے

کیسے یہ شعر اور کیا ان کی حقیقتنا صاحب اس اپنے لفظوں بھرے کنستر سے چلو بھر کر بھیک کسی کو دے کر

ہم سے اپنے قرض نہیں اتریں گےاور یہ قرض اب تک کس سے اور کب اترے ہیں

لاکھوں نصرت مند ہجوموں کی خنداں خنداں خونیں آنکھوں سے بھرے ہوئےتاریخ کے چوراہوں پر

صاحب تخت خداوندوں کی کٹتی گردنیں بھی حل کر نہ سکیں یہ مسائلاک سائل کے مسائل

اپنے اپنے عروجوں کی افتادگیوں میں ڈوب گئیں سب تہذیبیں سب فلسفے۔۔۔تو اب یہ سب حرف زبوروں میں جو مجلد ہیں کیا حاصل ان کا۔۔۔

جب تک میرا یہ دکھ خود میرے لہو کی دھڑکتی ٹکسالوں میں ڈھل کے دعاؤں بھری اس اکمیلی جھولی میں نہ کھنکے

جو رستے کے کنارے مرے قدموں پہ بچھی ہے

— مجید امجد