5 اشعار

اک عمر دل کی گھات سے تجھ پر نگاہ کی

Ek umr dil kī ghāt se tujh par nigāh kī

اک عمر دل کی گھات سے تجھ پر نگاہ کی

«اک عمر دل کی گھات سے تجھ پر نگاہ کی» مجید امجد کا کلام ہے، جسے یادرفتگان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کیا روپ دوستی کا کیا رنگ دشمنی کا مجید امجد» میں 24 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔

اک عمر دل کی گھات سے تجھ پر نگاہ کیتجھ پر تری نگاہ سے چھپ کر نگاہ کی

روحوں میں جلتی آگ خیالوں میں کھلتے پھولساری صداقتیں کسی کافر نگاہ کی

جب بھی غم زمانہ سے آنکھیں ہوئیں دو چارمنہ پھیر کر تبسم دل پر نگاہ کی

باگیں کھنچیں مسافتیں کڑکیں فرس رکےماضی کی رتھ سے کس نے پلٹ کر نگاہ کی

دونوں کا ربط ہے تری موج خرام سےلغزش خیال کی ہو کہ ٹھوکر نگاہ کی

— مجید امجد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں