12 اشعار

جب اک چراغ راہ گزر کی کرن پڑے

Jab ek charāgh rāh-guzar kī kiran paṛe

جب اک چراغ راہ گزر کی کرن پڑے

«جب اک چراغ راہ گزر کی کرن پڑے» مجید امجد کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 32 سیکنڈ ہے۔

جب اک چراغ راہ گزر کی کرن پڑےہونٹوں کی لو لطیف حجابوں سے چھن پڑے

شاخ ابد سے جھڑتے زمانوں کا روپ ہےیہ لوگ جن کے رخ پہ گمان چمن پڑے

یہ کس حسیں دیار کی ٹھنڈی ہوا چلیہر موجۂ خیال پہ صد ہا شکن پڑے

یہ کون ہے لبوں میں رسیلی رتیں گھلیںپلکوں کی اوٹ نیند میں گلگوں گگن پڑے

اک پل بھی کوئے دل میں نہ ٹھہراؤ رہ نورداب جس کے نقش پا میں چمن در چمن پڑے

اک جست اس طرف بھی غزال زمانہ رقصرہ تیری دیکھتے ہیں خطا و ختن پڑے

جب انجمن توجہ صد گفتگو میں ہومیری طرف بھی اک نگہ کم سخن پڑے

صحرائے زندگی میں جدھر بھی قدم اٹھےرستے میں ایک آرزوؤں کا چمن پڑے

اس جلتی دھوپ میں یہ گھنے سایہ دار پیڑمیں اپنی زندگی انہیں دے دوں جو بن پڑے

اے شاطر ازل ترے ہاتھوں کو چوم لوںقریے میں میرے نام جو دیوانہ پن پڑے

اے صبح دیر خیز انہیں آواز دے جو ہےاک شام زود خواب کے سکھ میں مگن پڑے

امجدؔ طریق مے میں ہے یہ احتیاط شرطاک داغ بھی کہیں نہ سر پیرہن پڑے

— مجید امجد