9 اشعار

حرص

Hirs

حرص

«حرص» مجید امجد کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 14 سیکنڈ ہے۔

اوروں کی کیا کہیے خود میرا دل بھی انگاروں کا مطبخ ہےسدا مری آنکھوں میں اک وہ کشش دہکتی ہے جو

سب کو اپنی جانب کھینچ کر میرے وار کی زد میں لے آتی ہےسب کچھ میری طلب کی تشنگیوں کے دہانے پر ہے

انگاروں کے اس مطبخ میں گرنے کو ہےگاڑھا لجز لہو اک وہ کیلوس جو انگاروں کا استحالہ ہے

اس میرے دل کی کالی قوت ہے میں جس کے پس میں ہوںیہ قوت مجھ سے کہتی ہے

دیکھ مرے انگارے میری تڑپ کا رنگ ہیں اب کچھ تو ان کی خاطر بھیاور انگارے اگلتی سانسوں کے ساتھ اب میں

اس دنیا کے اندر اپنے شکار کی تلاش میںاک اک روح کی گھات میں

اک اک روح کے سامنے سوالی بن کے کھڑا ہوںمیرے دل میں انگاروں کے دندانے پیہم جڑتے اور کھلتے ہیں

باہر کسی کرم کی بناوٹ میں ہونٹ ایک اونکھا ٹھہرا ٹھہرا ٹیڑھا زاویہ سا ہیںکوئی مجھے اب پہچانے گا

کس طرح ہنس ہنس کر مجھ سے ملتی ہے دنیا بد بخت

— مجید امجد