10 اشعار

جاروب کش

Jaaroob Kash

جاروب کش

«جاروب کش» مجید امجد کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 15 سیکنڈ ہے۔

آسمانوں کے تلے سبز و خنک گوشوں میںکوئی ہوگا جسے اک ساعت راحت مل جائے

یہ گھڑی تیرے مقدر میں نہیں ہے نہ سہیآسمانوں کے تلے تلخ و سیہ راہوں پر

اتنے غم بکھرے پڑے ہیں کہ اگر تو چن لےکوئی اک غم تری قسمت کو بدل سکتا ہے

آسمانوں کے تلے تلخ و سیہ راہوں پرتو اگر دیکھے تو خوشیوں کی گریزاں سرحد

سوز یک غم سے شکیب غم دیگر تک ہےزندگی قہر سہی زہر سہی کچھ بھی سہی

آسمانوں کے تلے تلخ و سیہ لمحوں میںجرعۂ سم کے لیے عفت لب لازم ہے

اور تو ہے کہ ترے جسم کا سایہ بھی نجستو اگر چاہے تو ان تلخ و سیہ راہوں پر

جا بجا اتنی تڑپتی ہوئی دنیاؤں میںاتنے غم بکھرے پڑے ہیں کہ جنہیں تیری حیات

قوت یک شب کے تقدس میں سمو سکتی ہےکاش تو حیلۂ جاروب کے پر نوچ سکے

کاش تو سوچ سکے سوچ سکے

— مجید امجد