6 اشعار

کبھی تو سوچ ترے سامنے نہیں گزرے

Kabhi to soch tere samne nahin guzre

کبھی تو سوچ ترے سامنے نہیں گزرے

«کبھی تو سوچ ترے سامنے نہیں گزرے» مجید امجد کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 43 سیکنڈ ہے۔

کبھی تو سوچ ترے سامنے نہیں گزرےوہ سب سمے جو ترے دھیان سے نہیں گزرے

یہ اور بات کہ ہوں ان کے درمیاں میں بھییہ واقعے کسی تقریب سے نہیں گزرے

ان آئنوں میں جلے ہیں ہزار عکس عدمدوام درد ترے رت جگے نہیں گزرے

سپردگی میں بھی اک رمز خود نگہ داریوہ میرے دل سے مرے واسطے نہیں گزرے

بکھرتی لہروں کے ساتھ ان دنوں کے تنکے بھی تھےجو دل میں بہتے ہوئے رک گئے نہیں گزرے

انہیں حقیقت دریا کی کیا خبر امجدؔجو اپنی روح کی منجدھار سے نہیں گزرے

— مجید امجد