7 اشعار

جس بھی روح کا

Jis Bhi Rooh Ka

جس بھی روح کا

«جس بھی روح کا» مجید امجد کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

جس بھی روح کا گھونگھٹ سرکاؤ۔۔۔ نیچے اکمنفعت کا رخ اپنے اطمینانوں میں روشن ہے

ہم سمجھتے تھے گھرتے امڈتے بادلوں کے نیچے جب ٹھنڈی ہوا چلے گیدن بدلیں گے

لیکن اب دیکھا ہے گھنے گھنے سایوں کے نیچےزندگیوں کی سلسبیلوں میں

ڈھکی ڈھکی جن نالیوں سے پانی آ آ کر گرتا ہےسب زیر زمین نظاموں کی نیلی کڑیاں ہیں

سب تملیکیں ہیں سب تذلیلیں ہیںکون سہارا دے گا ان کو جن کے لیے سب کچھ اک کرب ہے

کون سہارا دے گا ان کو جن کا سہارا آسمانوں کے خلاؤں میں بکھرا ہوادھندلا دھندلا اک عکس ہے

میں ان عکسوں کا عکاس ہوں

— مجید امجد