8 اشعار

نظم

Nazm

نظم

«نظم» مجید امجد کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 23 سیکنڈ ہے۔

اور پھر اک دن میں اور تم ان اونچی نیچی دیواروں کے جھرمٹ میں اترےجن میں کبھی ہماری روحوں کو زندہ چن دیا گیا تھا

اس وقت آنگن آنگن میں ترچھی کرنوں نے دھوپ کے کنگرے سایوں کی قاشوں میں ٹانک دیے تھےدیکھا ہوا سا کوئی سماں پرانا اس دن ہم نے دیکھا

یوں لگتا تھا جیسے آسمانوں کی روشنیاں جھک جھک کر اس اک قریے کو دیکھ رہی تھیںاور ہمیں تب وہ دن یاد آئے جب موت ہماری زندگیوں سے گزر رہی تھی ایسی ہی صبحوں کی اوٹ میں

ہم ان زینہ بہ زینہ منڈیروں کے جھرمٹ میں تھےاور اس شہر کے لوگ اب بھی گلیوں میں خوانچے لگائے اپنی زندگیوں کو سج رہے تھے

اور پھر ہم نے سوچاکون اچھا ہے ہم جو مردہ چہروں سے جینے کی خواہش پاتے ہیں یا وہ جو

ہم کو زندہ دیکھ کے ہماری موت کو مان لیتے ہیںابھی ابھی تو میرے ساتھ ساتھ تھے ہم اسے گزرے ہوئے زمانوں کے خیالو پھر کب لوٹو گے

اک دن پھر بھی تمہارے ساتھ اس خاک کے تختے تک جاؤں گاجس سے ڈھکے ہوئے بے نور گڑھوں میں

کچھ نادیدہ آنکھیں ہم کو دیکھ کے اب بھی ہنس ہنس اٹھتی نظر آتی ہیں

— مجید امجد