9 اشعار

جو ہو سکے تو مرے دل اب اک وہ قصہ بھی

Jo ho sake to mere dil ab ek woh qissa bhi

جو ہو سکے تو مرے دل اب اک وہ قصہ بھی

«جو ہو سکے تو مرے دل اب اک وہ قصہ بھی» مجید امجد کا کلام ہے، جسے راجا اکرام قمر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کیا روپ دوستی کا کیا رنگ دشمنی کا مجید امجد» میں 24 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 15 سیکنڈ ہے۔

جو ہو سکے تو مرے دل اب اک وہ قصہ بھیذرا سنا کہ ہے کچھ ذکر جس میں تیرا بھی

کبھی سفر ہی سفر میں جو عمر رفتہ کی سمتپلٹ کے دیکھا تو اڑتی تھی گرد فردا بھی

بڑے سلیقے سے دنیا نے میرے دل کو دیےوہ گھاؤ جن میں تھا سچائیوں کا چرکا بھی

کسی کی روح سے تھا ربط اور اپنے حصے میں تھیوہ بے کلی جو ہے موج زماں کا حصہ بھی

یہ آنکھیں ہنستی وفائیں یہ پلکیں جھکتے خلوصکچھ اس سے بڑھ کے کسی نے کسی کو سمجھا بھی

یہ رسم حاصل دنیا ہے اک یہ رسم سلوکہزار اس میں سہی نفرتوں کا ایما بھی

دلوں کی آنچ سے تھا برف کی سلوں پہ کبھیسیاہ سانسوں میں لتھڑا ہوا پسینہ بھی

مجھے ڈھکی چھپی ان بوجھی الجھنوں سے ملاجچی تلی ہوئی اک سانس کا بھروسا بھی

کبھی کبھی انہی الھڑ ہواؤں میں امجدؔسنا ہے دور کے اک دیس کا سندیسا بھی

— مجید امجد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں