9 اشعار

کون دیکھے گا

Kaun Dekhe Ga

کون دیکھے گا

«کون دیکھے گا» مجید امجد کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

جو دن کبھی نہیں بیتا وہ دن کب آئے گاانہی دنوں میں اس اک دن کو کون دیکھے گا

اس ایک دن کو جو سورج کی راکھ میں غلطاںانہی دنوں کی تہوں میں ہے کون دیکھے گا

اس ایک دن کو جو ہے عمر کے زوال کا دنانہیں دنوں میں نمویاب کون دیکھے گا

یہ ایک سانس جھمیلوں بھری جگوں میں رچیاس اپنی سانس میں کون اپنا انت دیکھے گا

اس اپنی مٹی میں جو کچھ امٹ ہے مٹی ہےجو دن ان آنکھوں نے دیکھا ہے کون دیکھے گا

میں روز ادھر سے گزرتا ہوں کون دیکھتا ہےمیں جب ادھر سے نہ گزروں گا کون دیکھے گا

دو رویہ ساحل دیوار اور پس دیواراک آئنوں کا سمندر ہے کون دیکھے گا

ہزار چہرے خود آرا ہیں کون جھانکے گامرے نہ ہونے کی ہونی کو کون دیکھے گا

تڑخ کے گرد کی تہ سے اگر کہیں کچھ پھولکھلے بھی، کوئی تو دیکھے گا کون دیکھے گا

— مجید امجد