اپنے دل کی کھوج میں کھو گئے کیا کیا لوگ
کلام: مجید امجد
اپنے دل کی کھوج میں کھو گئے کیا کیا لوگآنسو تپتی ریت میں بو گئے کیا کیا لوگ
کرنوں کے طوفان سے بجرے بھر بھر کرروشنیاں اس گھاٹ پر ڈھو گئے کیا کیا لوگ
کیا روپ دوستی کا کیا رنگ دشمنی کا مجید امجد
مہمان شاعر: مجید امجد
اپنے دل کی کھوج میں کھو گئے کیا کیا لوگآنسو تپتی ریت میں بو گئے کیا کیا لوگ
کرنوں کے طوفان سے بجرے بھر بھر کرروشنیاں اس گھاٹ پر ڈھو گئے کیا کیا لوگ
کیا روپ دوستی کا کیا رنگ دشمنی کاکوئی نہیں جہاں میں کوئی نہیں کسی کا
اک تنکا آشیانہ اک راگنی اثاثہاک موسم بہاراں مہمان دو گھڑی کا