6 اشعار

گہرے سروں میں عرض نوائے حیات کر

Gehre suron mein arz-e-nawa-e-hayat kar

گہرے سروں میں عرض نوائے حیات کر

«گہرے سروں میں عرض نوائے حیات کر» مجید امجد کا کلام ہے، جسے شہزاد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کیا روپ دوستی کا کیا رنگ دشمنی کا مجید امجد» میں 24 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

گہرے سروں میں عرض نوائے حیات کرسینے پہ ایک درد کی سل رکھ کے بات کر

یہ دوریوں کا سیل رواں برگ نامہ بھیجیہ فاصلوں کے بند گراں کوئی بات کر

تیرا دیار رات مری بانسری کی لےاس خواب دل نشیں کو مری کائنات کر

میرے غموں کو اپنے خیالوں میں بار دےان الجھنوں کو سلسلۂ واقعات کر

آ ایک دن مرے دل ویراں میں بیٹھ کراس دشت کے سکوت سخن جو سے بات کر

امجدؔ نشاط زیست اسی کشمکش میں ہےمرنے کا قصد جینے کا عزم ایک سات کر

— مجید امجد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں