7 اشعار

پھر تو سب ہم درد بہت افسوس کے ساتھ یہ کہتے تھے

Phir to sab humdard bahut afsos ke saath yeh kehte the

پھر تو سب ہم درد بہت افسوس کے ساتھ یہ کہتے تھے

«پھر تو سب ہم درد بہت افسوس کے ساتھ یہ کہتے تھے» مجید امجد کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 5 سیکنڈ ہے۔

پھر تو سب ہم درد بہت افسوس کے ساتھ یہ کہتے تھےخود ہی لڑے بھنور سے کیوں زحمت کی ہم جو بیٹھے تھے

دلوں کے علموں سے وہ اجالا تھا ہر چہرہ کالا تھایوں تو کسی نے اپنے بھید کسی کو نہیں بتائے تھے

ماتھے جب سجدوں سے اٹھے تو صفوں صفوں جو فرشتے تھےسب اس شہر کے تھے اور ہم ان سب کے جاننے والے تھے

اہل حضور کی بات نہ پوچھو کبھی کبھی ان کے دن بھیسوز صفا کی اک صفراوی اکتاہٹ میں کٹتے تھے

قالینوں پر بیٹھ کے عظمت والے سوگ میں جب روئےدیمک لگے ضمیر اس عزت غم پر کیا اترائے تھے

جن کی جیبھ کے کنڈل میں تھا نیش عقرب کا پیوندلکھا ہے ان بدسخنوں کی قوم پہ اژدر برسے تھے

جن کے لہو سے نکھر رہی ہیں یہ سرسبز ہمیشگیاںازلوں سے وہ صادق جذبوں طیب رزقوں والے تھے

— مجید امجد