9 اشعار

صبح جدائی

Subh-e-Judai

صبح جدائی

«صبح جدائی» مجید امجد کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 27 سیکنڈ ہے۔

اب دھندلی پڑتی جاتی ہے تاریکئ شب میں جاتا ہوںوہ صبح کا تارا ابھرا وہ پو پھوٹی اب میں جاتا ہوں

جاتا ہوں اجازت جانے دو وہ دیکھو اجالے چھانے کو ہیںسورج کی سنہری کرنوں کے خاموش بلاوے آنے کو ہیں

وہ پھولوں کے گجرے جو تم کل شام پرو کر لائی تھیںوہ کلیاں جن سے تم نے یہ رنگیں سیجیں مہکائی تھیں

دیکھو ان باسی کلیوں کی پتی پتی مرجھائی ہےوہ رات سہانی بیت چکی آ پہنچی صبح جدائی ہے

اب مجھ کو یہاں سے جانا ہے پر شوق نگاہو مت روکواو میرے گلے میں لٹکی ہوئی لچکیلی باہو مت روکو

ان الجھی الجھی زلفوں میں دل اپنا بسارے جاتا ہوںان میٹھی میٹھی نظروں کی یادوں کے سہارے جاتا ہوں

جاتا ہوں اجازت وہ دیکھو غرفے سے شعاعیں جھلکی ہیںپگھلے ہوئے سونے کی لہریں مینائے شفق سے چھلکی ہیں

کھیتوں میں کسی چرواہے نے بنسی کی تان اڑائی ہےایک ایک رسیلی سر جس کی پیغام سفر کا لائی ہے

مجبور ہوں میں جانا جو ہوا دل مانے نہ مانے جاتا ہوںدنیا کی اندھیری گھاٹی میں اب ٹھوکریں کھانے جاتا ہوں

— مجید امجد