9 اشعار

سپاہی

Sipahi

سپاہی

«سپاہی» مجید امجد کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

تم اس وقت کیا تھےتمہارے محلوں تمہارے گھروں میں تو سب کچھ تھا

آسائشیں بھی وسیلے بھیاس کبریائی کی تمکنت بھی

سبھی کچھ تمہارے تصرف میں تھا زندگی کا ہر اک آسرا بھیکڑے بام و در بھی

چمن بھی ثمر بھیمگر تم خود اس وقت کیا تھے

تمہاری نگاہوں میں دنیا دھوئیں کا بھنور تھیجب اڑتی ہلاکت کے شہ پر تمہارے سروں پر سے گزرے

تمہاری نگاہوں میں دنیا دھوئیں کا بھنور تھیاگر اس مقدس زمیں پر

مرا خوں نہ بہتااگر دشمنوں کے گرانڈیل ٹینکوں کے نیچے

مری کڑکڑاتی ہوئی ہڈیاں خندقوں میں نہ ہوتیںتو دوزخ کے شعلے تمہارے معطر گھروندوں کی دہلیز پر تھے

تمہارے ہر اک بیش قیمت اثاثے کی قیمتاس سرخ مٹی سے ہے جس میں میرا لہو رچ گیا ہے

— مجید امجد