15 اشعار

عدم کا خلا

ʿAdam kā khalā

عدم کا خلا

«عدم کا خلا» میراجی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

ہوا کے جھونکے ادھر جو آئیں تو ان سے کہنایہاں کوئی ایسی شے نہیں جسے وہ لے جائیں ساتھ اپنے

یہاں کوئی ایسی شے نہیں جسے کوئی دیکھ کر یہ سوچےکہ یہ ہمارے بھی پاس ہوتی

یہاں کوئی راہ رو نہیں ہے نہ کوئی منزلیہاں اندھیرا نہیں اجالا نہیں کوئی شے نہیں ہے

گزرتے لمحوں کے آتشیں پاؤں اس جگہ پے بہ پے رواں ہیںہر ایک شے کو سجھاتے جاتے ہر ایک شے کو جلاتے جاتے مٹاتے جاتے

ہر ایک شے کو سجھاتے جاتے کہ کچھ نہیں ہست سے بھی حاصلہوا کے جھونکے ادھر جو آئیں تو ان سے کہنا

یہ سب معابد یہ شہر گاؤںفسانۂ زیست کے نشاں ہیں

مگر ہر اک در پہ جا کے دیکھا ہر ایک دیوار روند ڈالی ہر ایک روزن کو دل سمجھ کریہ بھید جانا

گزرتے لمحوں کے آتشیں پاؤں ہر جگہ پے بہ پے رواں ہیںکہیں مٹاتے کہیں مٹانے کے واسطے نقش نو بناتے

حیات رفتہ حیات آئندہ سے ملے گی یہ کون جانےہوا کے جھونکے ادھر جو آئیں تو ان سے کہنا

ہر جگہ دام دوریوں کا بچھا ہوا ہےہر اک جگہ وقت ایک عفریت کی طرح یوں کھڑا ہوا ہے

کہ جیسے وہ کائنات کا عکس بے کراں ہوکبھی فریب خیال بن کر کبھی کبھی بھول کر شعور جمال بن کر

شکار کی ناتواں نظر کو سجھا رہا ہےہر ایک شے سے مرا نشان عدم عیاں ہے

عدم بھی دریوزہ گر ہے میرا مرے ہی بل پر رواں دواں ہےہوا کے جھونکے ادھر جو آئیں تو ان سے کہنا

فسانۂ زیست کا جھلستا ہوا اجالا بھی مٹ چکا ہےمگر ہو مٹ کر کوئی اندھیرا نہیں بنا ہے

کہ اس جگہ تو کوئی اندھیرا نہیں اجالا نہیں یہاں کوئی شے نہیں ہے

— میراجی