10 اشعار

میں جنسی کھیل کو صرف اک تن آسانی سمجھتا ہوں

Main jinsī khel ko sirf ik tan-āsānī samajhtā hūn

میں جنسی کھیل کو صرف اک تن آسانی سمجھتا ہوں

«میں جنسی کھیل کو صرف اک تن آسانی سمجھتا ہوں» میراجی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 22 سیکنڈ ہے۔

میں جنسی کھیل کو صرف اک تن آسانی سمجھتا ہوںذریعہ اور ہے معبود سے ملنے کا دنیا میں

تخیل کا بڑا ساگر تصور کے حسیں جھونکےلیے آتے ہیں بارش میں تمنائیں عبادت کی

مگر پوری نہیں ہوتی تمنا دل کی چاہت کیکسی عورت کا پیراہن کسی خلوت کی خوشبوئیں

کسی اک لفظ بے معنی کی میٹھی میٹھی سرگوشییہی چیزیں مرے غمگیں خیالوں پر ہمیشہ چھائی رہتی ہیں

عبادت کا طریقہ حرکتیں ہیں تشنہ و مبہمکبھی روح صنم بیدار خواب مرگ مہمل سے

کسی اندر سبھا کی لاکھ پریاں آ کے بہلائیںلبھاتے ناچ ناچیں اور رسیلے راگ بھی گائیں

مگر یہ مردہ دل عادی ہے بس غمگیں خیالوں کاگھٹا آتی نہیں خوشیوں کی بارش لا نہیں سکتی

مری روح حزیں محکوم ہے اپنے تأثر کیذریعہ اور ہے معبود سے ملنے کا دنیا میں

میں جنسی کھیل کو کیوں اک تن آسانی سمجھتا ہوںکبھی انساں کی عمر مختصر پر غور کرتا ہوں

کبھی فانی تمناؤں کی جھیلوں میں یوں ہی کھویا سا پھرتا ہوں

— میراجی