53 اشعار

دن کے روپ میں رات کہانی

Din Ke Roop Mein Raat Kahani

دن کے روپ میں رات کہانی

«دن کے روپ میں رات کہانی» میراجی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

رات کے پھیلے اندھیرے میں کوئی سایہ نہیںجھلملاتے ہوئے کمزور ستارے یہ کہے جاتے ہیں

چاند آئے گا تو سائے بھی چلے آئیں گےرات کے پھیلے اندھیرے میں کوئی سایہ نہیں ہوتا ہے

رات اک بات ہے صدیوں کی کئی صدیوں کییا کسی پچھلے جنم کی ہوگی

رات کے پھیلے اندھیرے ہیں کوئی سایہ نہ تھارات کا پھیلا اندھیرا محتاج

اک بھکاری تھا اسی پہلی کرن کا جو لرزتے ہوئے آتی ہے جگا دیتی ہےسوئے سایوں کو اٹھا دیتی ہے بیداری میں

زیست کے ہلتے ہوئے جھومتے آثار نظر آتے ہیںزیست سے پہلے مگر بات کوئی اور ہی تھی

رات کے پھیلے اندھیرے میں کوئی سایہ نہ تھاچاند کے آنے پہ سائے آئے

اس کے بکھرے ہوئے گیسو سائےلاج کی میٹھی جھجک بھی سایہ

اور بھی سائے تھے ہلکے گہرےکالی آنکھوں کی گھنیری پلکیں

اپنے آغوش میں سایوں کو لئے بیٹھی تھیںاور ان سایوں میں محسوس ہوا کرتا تھا

دل کا غم دل کی خلش دل کی تمنا ہر شےایک سایہ ہے لرزتا سایہ

اور مجھے دیکھنے پر اس کی گھنیری چپ چاپایک سایہ ہی نظر آتی تھی

ایسا اک سایہ جو خاموش رہا کرتا ہواور اسے دیکھتے ہی میں بھی تو اک سایہ ہی بن جاتا تھا

سایہ خاموش رہا کرتا ہےاور اک لرزش بیتاب کے ہونے پہ بھی خاموشی ہی

راہ میں میری عناں گیر ہوا کرتی تھیاس کے بکھرے ہوئے گیسو سائے

لاج کی میٹھی جھجک بھی سایہاور بھی سائے تھے ہلکے گہرے

کالی آنکھوں کی گھنیری پلکیںاپنے آغوش میں سایوں کو لئے بیٹھی تھیں

اور ان سایوں میں محسوس ہوا کرتا تھادل کا غم دل کی خلش دل کی تمنا ہر شے

ایک سایہ ہے لرزتا سایہاور مجھے دیکھنے پر اس کی گھنیری چپ چاپ

ایک سایہ ہی نظر آتی تھیایسا اک سایہ جو خاموش رہا کرتا ہو

اور اسے دیکھتے ہی میں بھی تو اک سایہ ہی بن جاتا تھاسایہ خاموش رہا کرتا ہے

اور اک لرزش بیتاب کے ہونے پر بھی خاموشی ہیراہ میں میری عناں گیر ہوا کرتی تھی

سیدھا جاتا ہوا رستہ بھی تو اک سایہ تھااس پہ آتے ہوئے جاتے ہوئے انسان تمام

دھندلے سائے تھے مگر سائے تھےمیں بھی جاتا ہوا آتا ہوا اک سایہ تھا

میں بھی اک سایہ تھا کس کا سایہکس کے قدموں سے لپٹتے ہوئے چپ چاپ چلا جاتا تھا

کہہ تو دوں دل میں یہ غم ناک خیال آتا ہےسایہ خاموش رہا کرتا ہے

رات کے سائے ہی خاموش رہا کرتے ہیںدن کے سائے تو کہا کرتے ہیں

بیتی لذت کی کہانی سےاور مری مستی بھی اب دن کا ہی اک سایہ ہے

جس کے ایک کنارے کو شعاع سوزاںاپنی شدت سے جلانے پہ مٹانے پہ تلی بیٹھی ہے

کاش آ جائے گھٹا چھائے گھٹا اور بن جائےچڑھتے سورج کا زوال

چڑھتا سورج یہ بتا دیتا ہےبڑھتے سائے ہیں کسی کے غماز

بہتے بہتے یہ کہے جاتے ہیںرات کے جاگے ہوئے سوئے ہوئے اٹھے ہیں

دھوپ کھاتے ہوئے لٹکے لٹکےجب کوئی پیرہن آویزاں

ایک جھونکے سے لرز اٹھتا ہےہم نوائی کو لرزتا ہوا سایہ بھی کہے جاتا ہے

بیتی لذت کی کہانی سب سےبیتی لذت بھی مرے واسطے اک سایہ ہے

کسی سورج کے تلے آتے ہوئے بادل کاسرسراتے ہوئے جھونکے کی طرح آتا ہوا جاتا ہوا

باتیں کرنے کو وہ اک پل بھی نہیں رکتا تھادن کا سایہ تھا اسے رات کی اک بات بھی معلوم نہ تھی

رات اک بات ہے صدیوں کی کئی صدیوں کیاور اب دن ہے مجھے سائے نظر آتے ہیں

بولتے سائے نظر آتے ہیںجانے پہچانے ہیں پھر بھی نئے مفہوم سمجھاتے ہیں سمجھاتے ہی چلے جاتے ہیں

پھر پلٹ آتے ہیںجیسے میں جاتا تھا اور جا کے پلٹ آتا تھا

اسی رستے پہ جو اک سایہ تھاراستہ آج بھی سایہ ہے مگر اک نیا سایہ ہے

راہ میں ایک مکانوہ بھی سایہ ہے اداسی کا گھنیرا سنسان

راہ میں آتی ہوئی ہر مورتایک سایہ ہے چڑیل

حور کا اس میں کوئی عکس نظر آتا نہیںدیکھتے ہی جسے میں کانپ اٹھا کرتا ہوں

آنکھوں میں خون اتر آتا ہےسامنے دھند سی چھا جاتی ہے

دل دھڑکتا ہی چلا جاتا ہےاور میں دیکھتا ہوں

سائے ملتے ہوئے گھلتے ہوئے کچھ بھوت سے بن جاتے ہیںہنہناتے ہوئے ہنستے ہیں پکار اٹھتے ہیں

دل میں کیا دھیان یہی ہے اب بھیدل میں کیا دھیان یہی ہے اب بھی

سایہ خاموش رہا کرتا ہےدیکھ ہم بولتے ہیں بولتے سائے ہیں تمام

ہم سے بچ تو کہاں جائے گااور میں کانپ اٹھا کرتا ہوں

اور وہ بولتے ہیںکانپ اٹھا ہے لرزتا ہے یہ بزدل ناکام

بات کرتا ہی نہیں ہے کوئیاب بھی شاید یہ سمجھتا ہے لرزتے دل میں

سایہ خاموش رہا کرتا ہے

— میراجی