16 اشعار

چل چلاؤ

Chal Chalāo

چل چلاؤ

«چل چلاؤ» میراجی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 25 سیکنڈ ہے۔

بس دیکھا اور پھر بھول گئےجب حسن نگاہوں میں آیا

من ساگر میں طوفان اٹھاطوفان کو چنچل دیکھ ڈری آکاش کی گنگا دودھ بھری

اور چاند چھپا تارے سوئے طوفان مٹا ہر بات گئیدل بھول گیا پہلی پوجا من مندر کی مورت ٹوٹی

دن لایا باتیں انجانی پھر دن بھی نیا اور رات نئیپیتم بھی نئی پریمی بھی نیا سکھ سیج نئی ہر بات نئی

اک پل کو آئی نگاہوں میں جھلمل کرتی پہلیسندرتا اور پھر بھول گئے

مت جانو ہمیں تم ہرجائیہرجائی کیوں کیسے کیسے

کیا داد جو اک لمحے کی ہو وہ داد نہیں کہلائے گیجو بات ہو دل کی آنکھوں کی

تم اس کو ہوس کیوں کہتے ہوجتنی بھی جہاں ہو جلوہ گری اس سے دل کو گرمانے دو

جب تک ہے زمیںجب تک ہے زماں

یہ حسن و نمائش جاری ہےاس ایک جھلک کو چھچھلتی نظر سے دیکھ کے جی بھر لینے دو

ہم اس دنیا کے مسافر ہیںاور قافلہ ہے ہر آن رواں

ہر بستی ہر جنگل صحرا اور روپ منوہر پربت کااک لمحہ من کو لبھائے گا اک لمحہ نظر میں آئے گا

ہر منظر ہر انساں کی دیا اور میٹھا جادو عورت کااک پل کو ہمارے بس میں ہے پل بیتا سب مٹ جائے گا

اس ایک جھلک کو چھچھلتی نظر سے دیکھ کے جی بھر لینے دوتم اس کو ہوس کیوں کہتے ہو

کیا داد جو اک لمحے کی ہو وہ داد نہیں کہلائے گیہے چاند فلک پر اک لمحہ

اور اک لمحہ یہ ستارے ہیںاور عمر کا عرصہ بھی سوچو اک لمحہ ہے

— میراجی