24 اشعار

محرومی

Mahrumi

محرومی

«محرومی» میراجی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 4 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

میں کہتا ہوں تم سے اگر شام کو بھول کر بھی کسی نے کبھی کوئی دھندلا ستارہ نہ دیکھاتو اس پر تعجب نہیں ہے نہ ہوگا

ازل سے اسی ڈھب کی پابند ہے شام کی ظاہرا بے ضرر شوخ ناگنابھرتے ہوئے اور لچکتے ہوئے اور مچلتے ہوئے کہتی جاتی ہے آؤ مجھے دیکھو میں نے

تمہارے لیے ایک رنگین محفل جمائی ہوئی ہےانوکھا سا ایوان ہے ہر طرف جس میں پردے گرے ہیں وہاں جو بھی ہو اس کو

کوئی نہیں دیکھ سکتاتہیں اس کے پردوں کی ایسے لچکتی چلی جاتی ہیں جیسے پھیلی ہوئی سطح دریا نے

اٹھ کر دھندلکے کی مانند پنہاں کیا ہو فضا کو نظر سےذرا دیکھو چھت پر لٹکتے ہیں فانوس اپنی ہر اک نیم روشن کرن سے سجھاتے

ہیں اک بھید کی بات کا گیت جس میں مسہری کے آغوش کی لرزشیں ہوںستونوں کے پیچھے سے آہستہ آہستہ رکتا ہوا اور جھجکتا ہوا چور سایہ یہی کہہ رہا

ہے وہ آئے وہ آئےابھی ایک پل میں اچانک یونہی جگمگانے لگے گا یہ ایوان یکسر

ہر اک چیز کیسے قرینے سے رکھی ہوئی ہےمیں کہتی ہوں مانو چلو آؤ محفل سجی ہے

تم آؤ تو گونج اٹھے شہنائی دالان میں آنے جانے کی آہٹ سے ہنگامہ پیداہو لیکن مسہری کے آغوش کی لرزشوں میں تمہیں اس کا احساس

بھی ہونے پائے تو ذمہ ہے میراازل سے اس ڈھب کی پابند ہے موج بیتاب اس کو خبر بھی نہ ہوگی کہ اک شاخ نازک

نے بے باک جھونکے سے ٹکرا کے آہیں بھری تھیںمگر میں یہ کہتا ہوں تم سے اگر شاد کو بھول کر بھی کسی نے کبھی کوئی دھندلا ستارہ

نہ دیکھا تو اس پر تعجب نہیں ہےازل سے اسی ڈھب کی پابند ہے شام کی شوخ ناگن

یہ ڈستی ہے ڈستے ہوئے کہتی جاتی ہےجاؤ اگر تم جھجکتے رہوگے تو

ہر لمحہ یکساں روش سے گزر جائے گا اور تم دیکھتے ہی رہوگے اکیلے اکیلےتمہیں دائیں بائیں تمہیں سامنے کچھ دکھائی نہ دے گا فقط سرد دیواریں ہنستی رہیں گی

مگر ان کا ہنسنا بھی آہستہ آہستہ بیتے زمانے کی مانند اک دور کی بات معلوم ہونے لگے گادھندلکے میں ڈوبی ہوئی آنکھ دیکھے گی روزن سے دور اک ستارہ نظر آ رہا ہے

مگر چھت پہ فانوس کا کوئی جھولا نہ ہوگاشکستہ فتادہ ستونوں کی مانند فرش حزیں پر تمہارا وہ سایہ تڑپتا رہے گا جسے

یہ تمنا تھی کہہ دوں تمنا کیا تھیبس اب اپنی غم ناک باتوں کو اپنے ابھرتے ہوئے اور بدلتے ہوئے رنگ میں تو چھپا لے

میں اب مانتا ہوں کہ تو نے روانی میں اپنی بہت دور روزن سے دھندلےستارے بھی دیکھے ہیں لاکھوں

میں اب مانتا ہوں مری آنکھ میں ایک آنسو جھلکتا چلا جا رہا ہے ٹپکتا نہیں ہےمیں اب مانتا ہوں مجھے دائیں بائیں مجھے سامنے کچھ دکھائی نہیں دے رہا ہے فقط

سرد دیواریں ہنستی چلی جا رہی ہیںمیں اب مانتا ہوں کہ میں نے اس ایوان کو آج تک اپنے خوابوں میں دیکھا ہے لیکن

وہاں کوئی بھی چیز ایسے قرینے سے رکھی نہیں ہےکہ جیسے بتایا ہے تو نے تری ایک رنگین محفل سجی ہے

مسہری کے آغوش کی لرزشوں کا مجھے خواب بھی اب نہ آئے گا میں اپنےکانوں سے کیسے سنوں گا وہ شہنائی کی گونج سیندور

کا سرخ نغمہ جسے سن کے دالان میں آنے جانے کی آہٹسے ہنگامہ ہو جاتا ہے ایک پل کو

مجھے تو فقط سرد دیواریں ہنستی سنائی دیے جا رہی ہیں

— میراجی