7 اشعار

چاند ستارے قید ہیں سارے وقت کے بندی خانے میں

Chand sitaare qaid hain saare waqt ke bandi khaane mein

چاند ستارے قید ہیں سارے وقت کے بندی خانے میں

«چاند ستارے قید ہیں سارے وقت کے بندی خانے میں» میراجی کا کلام ہے، جسے ندیم بخاری نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «میر ملے تھے میرا جی سے باتوں سے ہم جان گئے میرا جی» میں 29 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

چاند ستارے قید ہیں سارے وقت کے بندی خانے میںلیکن میں آزاد ہوں ساقی چھوٹے سے پیمانے میں

عمر ہے فانی عمر ہے باقی اس کی کچھ پروا ہی نہیںتو یہ کہہ دے وقت لگے گا کتنا آنے جانے میں

تجھ سے دوری دوری کب تھی پاس اور دور تو دھوکا ہیںفرق نہیں انمول رتن کو کھو کر پھر سے پانے میں

دو پل کی تھی اندھی جوانی نادانی کی بھر پایاعمر بھلا کیوں بیتے ساری رو رو کر پچھتانے میں

پہلے تیرا دیوانہ تھا اب ہے اپنا دیوانہپاگل پن ہے ویسا ہی کچھ فرق نہیں دیوانے میں

خوشیاں آئیں اچھا آئیں مجھ کو کیا احساس نہیںسدھ بدھ ساری بھول گیا ہوں دکھ کے گیت سنانے میں

اپنی بیتی کیسے سنائیں مد مستی کی باتیں ہیںمیراجیؔ کا جیون بیتا پاس کے اک مے خانے میں

— میراجی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں