9 اشعار

ہنسو تو ساتھ ہنسے گی دنیا بیٹھ اکیلے رونا ہوگا

Hanso to saath hansegi duniya baith akele rona hoga

ہنسو تو ساتھ ہنسے گی دنیا بیٹھ اکیلے رونا ہوگا

«ہنسو تو ساتھ ہنسے گی دنیا بیٹھ اکیلے رونا ہوگا» میراجی کا کلام ہے، جسے زاہدحسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «میر ملے تھے میرا جی سے باتوں سے ہم جان گئے میرا جی» میں 29 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

ہنسو تو ساتھ ہنسے گی دنیا بیٹھ اکیلے رونا ہوگاچپکے چپکے بہا کر آنسو دل کے دکھ کو دھونا ہوگا

بیرن ریت بڑی دنیا کی آنکھ سے جو بھی ٹپکا موتیپلکوں ہی سے اٹھانا ہوگا پلکوں ہی سے پرونا ہوگا

کھونے اور پانے کا جیون نام رکھا ہے ہر کوئی جانےاس کا بھید کوئی نہ دیکھا کیا پانا کیا کھونا ہوگا

بن چاہے بن بولے پل میں ٹوٹ پھوٹ کر پھر بن جائےبالک سوچ رہا ہے اب بھی ایسا کوئی کھلونا ہوگا

پیاروں سے مل جائیں پیارے انہونی کب ہونی ہوگیکانٹے پھول بنیں گے کیسے کب سکھ سیج بچھونا ہوگا

بہتے بہتے کام نہ آئے لاکھ بھنور طوفانی ساگراب منجدھار میں اپنے ہاتھوں جیون ناؤ ڈبونا ہوگا

جو بھی دل نے بھول میں چاہا بھول میں جانا ہو کے رہے گاسوچ سوچ کر ہوا نہ کچھ بھی آؤ اب تو کھونا ہوگا

کیوں جیتے جی ہمت ہاریں کیوں فریادیں کیوں یہ پکاریںہوتے ہوتے ہو جائے گا آخر جو بھی ہونا ہوگا

میراجیؔ کیوں سوچ ستائے پلک پلک ڈوری لہرائےقسمت جو بھی رنگ دکھائے اپنے دل میں سمونا ہوگا

— میراجی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں