20 اشعار

کلرک کا نغمۂ محبت

Clerk Ka Naghma-e-Mohabbat

کلرک کا نغمۂ محبت

«کلرک کا نغمۂ محبت» میراجی کا کلام ہے، جسے ثنا سوئٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «میر ملے تھے میرا جی سے باتوں سے ہم جان گئے میرا جی» میں 29 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 39 سیکنڈ ہے۔

سب رات مری سپنوں میں گزر جاتی ہے اور میں سوتا ہوںپھر صبح کی دیوی آتی ہے

اپنے بستر سے اٹھتا ہوں منہ دھوتا ہوںلایا تھا کل جو ڈبل روٹی

اس میں سے آدھی کھائی تھیباقی جو بچی وہ میرا آج کا ناشتہ ہے

دنیا کے رنگ انوکھے ہیںجو میرے سامنے رہتا ہے اس کے گھر میں گھر والی ہے

اور دائیں پہلو میں اک منزل کا ہے مکاں وہ خالی ہےاور بائیں جانب اک عیاش ہے جس کے ہاں اک داشتہ ہے

اور ان سب میں اک میں بھی ہوں لیکن بس تو ہی نہیںہیں اور تو سب آرام مجھے اک گیسوؤں کی خوشبو ہی نہیں

فارغ ہوتا ہوں ناشتے سے اور اپنے گھر سے نکلتا ہوںدفتر کی راہ پر چلتا ہوں

رستے میں شہر کی رونق ہے اک تانگہ ہے دو کاریں ہیںبچے مکتب کو جاتے ہیں اور تانگوں کی کیا بات کہوں

کاریں تو چھچھلتی بجلی ہیں تانگوں کے تیروں کو کیسے سہوںیہ مانا ان میں شریفوں کے گھر کی دھن دولت ہے مایا ہے

کچھ شوخ بھی ہیں معصوم بھی ہیںلیکن رستے پر پیدل مجھ سے بد قسمت مغموم بھی ہیں

تانگوں پر برق تبسم ہےباتوں کا میٹھا ترنم ہے

اکساتا ہے دھیان یہ رہ رہ کر قدرت کے دل میں ترحم ہےہر چیز تو ہے موجود یہاں اک تو ہی نہیں اک تو ہی نہیں

اور میری آنکھوں میں رونے کی ہمت ہی نہیں آنسو ہی نہیںجوں توں رستہ کٹ جاتا ہے اور بندی خانہ آتا ہے

چل کام میں اپنے دل کو لگا یوں کوئی مجھے سمجھاتا ہےمیں دھیرے دھیرے دفتر میں اپنے دل کو لے جاتا ہوں

نادان ہے دل مورکھ بچہ اک اور طرح دے جاتا ہوںپھر کام کا دریا بہتا ہے اور ہوش مجھے کب رہتا ہے

جب آدھا دن ڈھل جاتا ہے تو گھر سے افسر آتا ہےاور اپنے کمرے میں مجھ کو چپراسی سے بلواتا ہے

یوں کہتا ہے ووں کہتا ہے لیکن بے کار ہی رہتا ہےمیں اس کی ایسی باتوں سے تھک جاتا ہوں تھک جاتا ہوں

پل بھر کے لیے اپنے کمرے کو فائل لینے آتا ہوںاور دل میں آگ سلگتی ہے میں بھی جو کوئی افسر ہوتا

اس شہر کی دھول اور گلیوں سے کچھ دور مرا پھر گھر ہوتااور تو ہوتی

لیکن میں تو اک منشی ہوں تو اونچے گھر کی رانی ہےیہ میری پریم کہانی ہے اور دھرتی سے بھی پرانی ہے

— میراجی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں