19 اشعار

سمندر کا بلاوا

Samandar Ka Bulawa

سمندر کا بلاوا

«سمندر کا بلاوا» میراجی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 53 سیکنڈ ہے۔

یہ سرگوشیاں کہہ رہی ہیں اب آؤ کہ برسوں سے تم کو بلاتے بلاتے مرےدل پہ گہری تھکن چھا رہی ہے

کبھی ایک پل کو کبھی ایک عرصہ صدائیں سنی ہیں مگر یہ انوکھی ندا آ رہی ہےبلاتے بلاتے تو کوئی نہ اب تک تھکا ہے نہ آئندہ شاید تھکے گا

مرے پیارے بچے مجھے تم سے کتنی محبت ہے دیکھو اگریوں کیا تو

برا مجھ سے بڑھ کر نہ کوئی بھی ہوگا خدایا خدایاکبھی ایک سسکی کبھی اک تبسم کبھی صرف تیوری

مگر یہ صدائیں تو آتی رہی ہیںانہی سے حیات دو روزہ ابد سے ملی ہے

مگر یہ انوکھی ندا جس پہ گہری تھکن چھا رہی ہےیہ ہر اک صدا کو مٹانے کی دھمکی دئیے جا رہی ہے

اب آنکھوں میں جنبش نہ چہرے پہ کوئی تبسم نہ تیوریفقط کان سنتے چلے جا رہے ہیں

یہ اک گلستاں ہے ہوا لہلہاتی ہے کلیاں چٹکتی ہیںغنچے مہکتے ہیں اور پھول کھلتے ہیں کھل کھل کے مرجھا کے

گرتے ہیں اک فرش مخمل بناتے ہیں جس پرمری آرزوؤں کی پریاں عجب آن سے یوں رواں ہیں

کہ جیسے گلستاں ہی اک آئینہ ہےاسی آئینے سے ہر اک شکل نکھری سنور کر مٹی اور مٹ ہی گئی پھر نہ ابھری

یہ پربت ہے خاموش ساکنکبھی کوئی چشمہ ابلتے ہوئے پوچھتا ہے کہ اس کی چٹانوں کے اس پار کیا ہے

مگر مجھ کو پربت کا دامن ہی کافی ہے دامن میں وادی ہے وادی میں ندیہے ندی میں بہتی ہوئی ناؤ ہی آئینہ ہے

اسی آئینے میں ہر اک شکل نکھری مگر ایک پل میں جو مٹنے لگی ہے توپھر نہ ابھری

یہ صحرا ہے پھیلا ہوا خشک بے برگ صحرابگولے یہاں تند بھوتوں کا عکس مجسم بنے ہیں

مگر میں تو دور ایک پیڑوں کے جھرمٹ پہ اپنی نگاہیں جمائے ہوئے ہوںنہ اب کوئی صحرا نہ پربت نہ کوئی گلستاں

اب آنکھوں میں جنبش نہ چہرے پہ کوئی تبسم نہ تیوریفقط ایک انوکھی صدا کہہ رہی ہے کہ تم کو بلاتے بلاتے مرے دل پہ

گہری تھکن چھا رہی ہےبلاتے بلاتے تو کوئی نہ اب تک تھکا ہے نہ شاید تھکے گا

تو پھر یہ ندا آئینہ ہے فقط میں تھکا ہوںنہ صحرا نہ پربت نہ کوئی گلستاں فقط اب سمندر بلاتا ہے مجھ کو

کہ ہر شے سمندر سے آئی سمندر میں جا کر ملے گی

— میراجی