21 اشعار

دھوبی کا گھاٹ

Dhobi Ka Ghat

دھوبی کا گھاٹ

«دھوبی کا گھاٹ» میراجی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 38 سیکنڈ ہے۔

جس شخص کے ملبوس کی قسمت میں لکھی ہےکرنوں کی تمازت

رشک آتا ہے مجھ کواس پر

کیوں صرف اچھوتاانجان انوکھا

اک خواب ہے خلوتکیوں صرف تصور

بہلاتا ہے مجھ کوکیوں صبح شب عیش کا جھونکا

بن کررخسار کے بے نام اذیت

سہلاتا ہے مجھ کو؟کیوں خواب فسوں گر کی قبا چاک نہیں ہے

کیوں گیسوئے پیچیدہ و رقصاںنمناک نہیں ہے

اشک دل خوں سےکیوں لمس کی حسرت کے جنوں سے

ملتی نہیں مجھ کوبے قید رہائی

ملبوس پہ کرنوں کی تمازتہے دام نظر کا

اور صبح شب عیش کو گیسو کا مہکتا ہوا جھونکامرہون سحر کا

ہوتا ہی نہیں ہےکیوں دھوئے نہ پیراہن آلودہ کے دھبے

مخمور مسرتکرنوں کی تمازت

بن جائے نہ کیوں رنگ شب عیش کا اک عکس مسلسلمجبور اذیت

تو مان لے اس عکس کا منظردیتا ہے تجھے جام چشیدہ کی سی لذت

کیوں سوچ رہا ہےجھوٹا ہے یہ پیالہ

کیا آج زمانے میں کہیں دیکھی ہے تو نےدوشیزہ مسرت؟

پھیلے ہوئے ملبوس پہ کرنوں کی تمازتہے زیست کے گیسو کی حرارت

اس شخص کو پیراہن آلودہ کے دھونے ہی سے روزیملتی ہے جہاں میں

تو اس پہ نظر کر

— میراجی