14 اشعار

سرسراہٹ

Sarsarahat

سرسراہٹ

«سرسراہٹ» میراجی کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «میر ملے تھے میرا جی سے باتوں سے ہم جان گئے میرا جی» میں 29 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 35 سیکنڈ ہے۔

یہاں ان سلوٹوں پر ہاتھ رکھ دوںیہ لہریں ہیں بہی جاتی ہیں اور مجھ کو بہاتی ہیں

یہ موج بادہ ہیں ساغر کی خوابیدہ فضا دل میںاچانک جاگ اٹھتی ہے

حقیقت کے جہاں سے کوئی اس دنیا میں در آئےتو اس کے ہونٹ متبسم ہوں شاید قہقہہ اٹھ کر

مرے دل کو جکڑ لے اپنے ہاتھوں سےمگر میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ لہریں ابھی تک ساحلی منظر سے ناواقف ہیں یوں ہی اک بہانا کر رہی ہیں اک بہانہ کس کو کہتے ہیں

بہانے ہی بہانے ہیںبڑھا کر رکھ دیا لہروں پہ میں نے ہاتھ مرا ہاتھ اک کشتی کی مانند ایک موج تند

کی افتاد کے جلوے کو مرے سامنے لا کر ہوا ہے گمیہ سب موج تخیل کی روانی تھی

مگر میں سوچتا ہوں بات جو کہنے کی تھی میں نے نہ کیوں پہلے ہی کہہ دی وقت کابے فائدہ مصرف

ہر اک پوشیدہ منظر کواگل ڈالے گا اک لمحہ وہ آئے گا

کہ جب اس بات کے سننے پہ سننے والے سوچیں گےبہانہ کیا تھا سلوٹ کیا تھی موج بادہ بھی کیا تھی

مگر شب کی اندھیری خلوت گمنام کے پردے میں کھو کر ان کو یہ معلوم ہو جائے گا اک پل میںاور اک لذت کے کیف مختصر میں کھو کے وہ بے ساختہ یہ بات کہہ اٹھیں گے کیا

مجھ کو اجازت ہےیہاں ان سلوٹوں پر ہاتھ رکھ دوں یہ جھجک کیسی

یہ لہریں ہیں انہیں نسبت ہے کالی رات کے غم ناک دریا سےجو بہتا ہی چلا جاتا ہے رکتا ہی نہیں پل کو

جسے کچھ بھی غرض اس سے نہیں میں ہاتھ رکھوں یا جھجک اس ہاتھ کو میرےکلیجے سے لگا دے اور میں سو جاؤں ان لہروں کے بستر میں

کلیجے سے لگا دے اور میں سو جاؤں ان لہروں کے بستر میں

— میراجی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں