14 اشعار

رس کی انوکھی لہریں

Ras Ki Anokhi Lehrein

رس کی انوکھی لہریں

«رس کی انوکھی لہریں» میراجی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 50 سیکنڈ ہے۔

میں یہ چاہتی ہوں کہ دنیا کی آنکھیں مجھے دیکھتی جائیں یوں دیکھتی جائیں جیسےکوئی پیڑ کی نرم ٹہنی کو دیکھے

لچکتی ہوئی نرم ٹہنی کو دیکھےمگر بوجھ پتوں کا اترے ہوئے پیرہن کی طرح سچ کے ساتھ ہی فرش پر ایک مسلا ہوا

ڈھیر بن کر پڑا ہومیں یہ چاہتی ہوں کہ جھونکے ہوا کے لپٹتے چلے جائیں مجھ سے

مچلتے ہوئے چھیڑ کرتے ہوئے ہنستے ہنستے کوئی بات کہتے ہوئے لاج کے بوجھسے رکتے رکتے سنبھلتے ہوئے رس کی رنگین سرگوشیوں میں

میں یہ چاہتی ہوں کبھی چلتے چلتے کبھی دوڑتے دوڑتے بڑھتی جاؤںہوا جیسے ندی کی لہروں سے چھوتے ہوئے سرسراتے ہوئے بہتی جاتی ہے رکتی

نہیں ہےاگر کوئی پنچھی سہانی صدا میں کہیں گیت گائے

تو آواز کی گرم لہریں مرے جسم سے آ کے ٹکرائیں اور لوٹ جائیں ٹھہرنے نہ پائیںکبھی گرم کرنیں کبھی نرم جھونکے

کبھی میٹھی میٹھی فسوں ساز باتیںکبھی کچھ کبھی کچھ نئے سے نیا رنگ ابھرے

ابھرتے ہی تحلیل ہو جائے پھیلی فضا میںکوئی چیز میرے مسرت کے گھیرے میں رکنے نہ پائے

مسرت کا گھیرا سمٹتا چلا جا رہا ہےکھلا کھیت گندم کا پھیلا ہوا ہے

بہت دور آکاش کا شامیانہ انوکھی مسہری بنائے رسیلے اشاروں سے بہکا رہا ہےتھپیڑوں سے پانی کی آواز پنچھی کے گیتوں میں گھل کر پھسلتے ہوئے اب نگاہوں سے اوجھل ہوئی جا رہی ہے

میں بیٹھی ہوئی ہوںدوپٹا میرے سر سے ڈھلکا ہوا ہے

مجھے دھیان آتا نہیں ہے مرے گیسوؤں کو کوئی دیکھ لے گامسرت کا گھیرا سمٹتا چلا جا رہا ہے

بس اب اور کوئی نئی چیز میرے مسرت کے گھیرے میں آنے نہ پائے

— میراجی