16 اشعار

دور کنارا

Door Kinara

دور کنارا

«دور کنارا» میراجی کا کلام ہے، جسے یادرفتگان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «میر ملے تھے میرا جی سے باتوں سے ہم جان گئے میرا جی» میں 29 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

پھیلی دھرتی کے سینے پہ جنگل بھی ہیں لہلہاتے ہوئےاور دریا بھی ہیں دور جاتے ہوئے

اور پربت بھی ہیں اپنی چپ میں مگناور ساگر بھی ہیں جوش کھاتے ہوئے

ان پہ چھایا ہوا نیلا آکاش ہےنیلے آکاش میں نور لاتے ہوئے دن کو سورج بھی ہے

شام جانے پہ ہے چاند سے سامنارات آنے پہ ننھے ستارے بھی ہیں جھلملاتے ہوئے

اور کچھ بھی نہیںاب تک آئی نہ آئندہ تو آئے گی بس یہی بات ہے

اور کچھ بھی نہیںایک تو ایک میں دور ہی دور ہیں

آج تک دور ہی دور ہر بات ہوتی رہیدور ہی دور جیون گزر جائے گا

لہر سے لہر ٹکرائے کیسے کہواور ساحل سے چھو جائے کیسے کہو

لہر کو لہر سے دور کرتی ہوئی بیچ میں سینکڑوں اور لہریں بھی ہیںاور کچھ بھی نہیں

چھائی مستی جو دل پر مرے بھول کیایک ہی بات رہ رہ کے کہتا ہے

ایک ہی دھیان کے درد میں دل کو لذت ملیآرزو کی کلی کب کھلی

ایک ہی موج پر میں تو بہتا رہااب تک آئی نہ آئندہ تو آئے گی

چاہے دھرتی کے سینے پہ جنگل نہ ہوںچاہے پربت نہ ہوں چاہے دریا نہ ہوں چاہے ساگر نہ ہوں

نیلے آکاش میں چاند تارے نہ ہوں کوئی سورج نہ ہورات دن ہوں نہ دنیا میں شام و سحر

کوئی پروا نہیںایک ہی دھیان ہے

دور ہی دور جیون گزر جائے گا اور کچھ بھی نہیں

— میراجی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں