14 اشعار

شراب

Sharaab

شراب

«شراب» میراجی کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «میر ملے تھے میرا جی سے باتوں سے ہم جان گئے میرا جی» میں 29 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 45 سیکنڈ ہے۔

فضول ہےیہ گفتگو ہے

نگاہ دیکھتی ہے طاق میں رکھی ہیں چند بوتلیںچلو چلیں

چلو چلیں جہاں ہمیں خیال ہی نہ آئے زندگی نظر کی بھول ہےچلو چلیں جہاں یہ در یہ دستکوں پہ دستکیں سنائی ہی نہ دے سکیں

جہاں یہ روزن زبوں نگاہ کی مخاصمت نہ کر سکےجہاں کھلی فضا کھلی فضا کہ جیسے کوئی کہہ رہا ہو آئیے

یہ کہہ رہی ہو آئیے کھلی فضا ہے یہ یہاں تو آئیےمگر کھلی فضا میں بھی کبھی گڑھے کبھی ستادہ پیڑ کہہ رہے ہیں دیکھیے

یہ گفتگو فضول ہےفضول ہے

نگاہ دیکھتی ہے طاق میں رکھی ہیں چند بوتلیںچلو چلیں

جو گود ماں کی تھی وہ ماں کی گود تھیوہاں ہر ایک بات جو فضول تھی وہ ایک بھول تھی

نگاہ دیکھتی ہے طاق میں رکھی ہیں چند بوتلیںچلو چلیں

بہن یہ کہہ رہی تھی اب تو آپ گھر بسا ہی لیںمیں سوچتا تھا کس کا گھر ہمارا گھر تمہارا گھر

اور اس پہ بھائی بول اٹھا فضول ہے یہ گفتگو فضول ہےنگاہ دیکھتی ہے طاق میں رکھی ہیں چند بوتلیں

چلو چلیں جہاں نہ کوئی طاق ہو نہ چند بوتلیں جہاں نہ کہہ سکیں چلو چلیںیہ گفتگو فضول ہے

مگر وہاں کوئی گڑھا نہ ہو نہ کوئی پیڑ ہووہاں سکون آخری سے جا ملیں

مگر یہاں بھی طاق پر رکھی ہیں چند بوتلیں

— میراجی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں