10 اشعار

گناہوں سے نشوونما پا گیا دل

Gunahon se nashv-o-numa pa gaya dil

گناہوں سے نشوونما پا گیا دل

«گناہوں سے نشوونما پا گیا دل» میراجی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 6 سیکنڈ ہے۔

گناہوں سے نشوونما پا گیا دلدر پختہ کاری پہ پہنچا گیا دل

اگر زندگی مختصر تھی تو پھر کیااسی میں بہت عیش کرتا گیا دل

یہ ننھی سی وسعت یہ نادان ہستینئے سے نیا بھید کہتا گیا دل

نہ تھا کوئی معبود پر رفتہ رفتہخود اپنا ہی معبود بنتا گیا دل

نہیں گریہ و خندہ میں فرق کوئیجو روتا گیا دل تو ہنستا گیا دل

بجائے دل اک تلخ آنسو رہے گااگر ان کی محفل میں آیا گیا دل

پریشاں رہا آپ تو فکر کیا ہےملا جس سے بھی اس کو بہلا گیا دل

کئی راز پنہاں ہیں لیکن کھلیں گےاگر حشر کے روز پکڑا گیا دل

بہت ہم بھی چالاک بنتے تھے لیکنہمیں باتوں باتوں میں بہکا گیا دل

کہی بات جب کام کی میراجیؔ نےوہیں بات کو جھٹ سے پلٹا گیا دل

— میراجی