12 اشعار

دیدۂ اشک بار ہے اپنا

Deeda Ashk Baar Hai Apna

دیدۂ اشک بار ہے اپنا

«دیدۂ اشک بار ہے اپنا» میراجی کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «میر ملے تھے میرا جی سے باتوں سے ہم جان گئے میرا جی» میں 29 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 14 سیکنڈ ہے۔

دیدۂ اشک بار ہے اپنااور دل بے قرار ہے اپنا

رشک صحرا ہے گھر کی ویرانییہی رنگ بہار ہے اپنا

چشم گریاں سے چاک داماں سےحال سب آشکار ہے اپنا

ہائے ہو میں ہر ایک کھویا ہےکون یاں غم گسار ہے اپنا

صرف وہ ایک سب کے ہیں مختاران پہ کیا اختیار ہے اپنا

بزم سے ان کی جب سے نکلا ہےدل غریب الدیار ہے اپنا

ان کو اپنا بنا کے چھوڑیں گےبخت اگر سازگار ہے اپنا

پاس تو کیا ہے اپنے پھر بھی مگراس پہ سب کچھ نثار ہے اپنا

ہم کو ہستی رقیب کی منظورپھول کے ساتھ خار ہے اپنا

ہے یہی رسم مے کدہ شایدنشہ ان کا خمار ہے اپنا

جیت کے خواب دیکھتے جاؤیہ دل بد قمار ہے اپنا

کیا غلط سوچتے ہیں میراجیؔشعر کہنا شعار ہے اپنا

— میراجی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں