11 اشعار

ارتقا

Irtiqa

ارتقا

«ارتقا» میراجی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 20 سیکنڈ ہے۔

قدم قدم پر جنازے رکھے ہوئے ہیں ان کو اٹھاؤ جاؤیہ دیکھتے کیا ہو کام میرا نہیں تمہارا یہ کام ہے آج اور کل کا

تم آج میں محو ہو کے شاید یہ سوچتے ہونہ بیتا کل اور نہ آنے والا تمہارا کل ہے

مگر یوں ہی سوچ میں جو ڈوبے تو کچھ نہ ہوگاجنازے رکھے ہوئے ہیں ان کو اٹھاؤ جاؤ

چلو جنازوں کو اب اٹھاؤیہ بہتے آنسو بہیں گے کب تک اٹھو اور اب ان کو پونچھ ڈالو

یہ راستا کب ہے اک لحد ہےلحد کے اندر تو اک جنازہ ہی بار پائے گا یہ بھی سوچو

تو کیا مشیت کے فیصلے سے ہٹے ہٹے رینگتے رہوگےجنازے رکھے ہوئے ہیں ان کو اٹھاؤ جاؤ

لحد کھلی ہےلحد ہے ایسے کہ جیسے بھوکے کا لالچی کا منہ کھلا ہوا ہو

مگر کوئی تازہ اور تازہ نہ ہو میسر تو باسی لقمہ بھی اس کےاندر نہ جانے پائے

کھلا دہن یوں کھلا رہے جیسے اک خلا ہواٹھاؤ جلدی اٹھاؤ آنکھوں کے سامنے کچھ جنازے رکھے

ہوئے ہیں ان کو اٹھاؤ جاؤلحد میں ان کو ابد کی اک گہری نیند میں غرق کر کے آؤ

اگر یہ مردے لحد کے اندر گئے تو شایدتمہاری مردہ حیات بھی آج جاگ اٹھے

— میراجی