29 اشعار

شام کو راستے پر

Shaam ko Raaste Par

شام کو راستے پر

«شام کو راستے پر» میراجی کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «میر ملے تھے میرا جی سے باتوں سے ہم جان گئے میرا جی» میں 29 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 3 منٹ 16 سیکنڈ ہے۔

رات کے عکس تخیل سے ملاقات ہو جس کا مقصودکبھی دروازے سے آتا ہے کبھی کھڑکی سے

اور ہر بار نئے بھیس میں در آتا ہےاس کو اک شخص سمجھنا تو مناسب ہی نہیں

وہ تصور میں مرے عکس ہے ہر شخص کا ہر انساں کاکبھی بھر لیتا ہے اک بھولی سی محبوبۂ نادان کا بہروپ کبھی

ایک چالاک جہاں دیدہ و بے باک ستمگر بن کردھوکا دینے کے لیے آتا ہے بہکاتا ہے

اور جب وقت گزر جائے تو چھپ جاتا ہےمری آنکھوں میں مگر چھایا ہے بادل بن کر

ایک دیوار کا روزن اسی روزن سے نکل کر کرنیںمری آنکھوں سے لپٹتی ہیں مچل اٹھتی ہیں

آرزوئیں دل غم دیدہ کے آسودہ نہاں خانے سےاور میں سوچتا ہوں نور کے اس پردے میں

کون بے باک ہے اور بھولی سی محبوبہ کونسوچ کو روک ہے دیوار کی وہ کیسے چلے

کیسے جا پہنچے کسی خلوت محجوب کے مخمور صنم خانے میںوہ صنم خانہ جہاں بیٹھے ہیں دو بت خاموش

اور نگاہوں سے ہر اک بات کہے جاتے ہیںذہن کو ان کے دھندلکے نے بنایا ہے اک ایسا عکاس

جو فقط اپنے ہی من مانے مناظر کو گرفتار کرےمیں کھڑا دیکھتا ہوں سوچتا ہوں جب دونوں

چھوڑ کر دل کے صنم خانے کو گھر جائیں گےصحن میں تلخ حقیقت کو کھڑا پائیں گے

ایک سوچے گا مری جیب یہ دنیا یہ سماجایک دیکھے گا وہاں اور ہی تیاری ہے

مجھ کو الجھن ہے یہ کیوں میں تو نہیں ہوں موجودرات کی خلوت محجوب کے مخمور صنم خانے میں

مری آنکھوں کو نظر آتا ہے روزن کا دھواںاور دل کہتا ہے یہ دود دل سوختہ ہے

ایک گھنگھور سکوں ایک کڑی تنہائیمیرا اندوختہ ہے

مجھ کو کچھ فکر نہیں آج یہ دنیا مٹ جائےمجھ کو کچھ فکر نہیں آج یہ بیکار سماج

اپنی پابندی سے دم گھٹ کے فسانہ بن جائےمری آنکھوں میں تو مرکوز ہے روزن کا سماں

اپنی ہستی کو تباہی سے بچانے کے لیےمیں اسی روزن بے رنگ میں گھس جاؤں گا

لیکن ایسے تو وہی بت نہ کہیں بن جاؤںجو نگاہوں سے ہر اک بات کہے جاتا ہے

چھوڑ کر جس کو صنم خانے کی محجوب فضاگھر کے بیباک المناک سیہ خانے میں

آرزوؤں پہ ستم دیکھنا ہے گھلنا ہےمیں تو روزن میں نہیں جاؤں گا دنیا مٹ جائے

اور دم گھٹ کے فسانہ بن جائےسنگ دل خون سکھاتی ہوئی بیکار سماج

میں تو اک دھیان کی کروٹ لے کرعشق کے طائر آوارہ کا بہروپ بھروں گا پل میں

اور چلا جاؤں گا اس جنگل میںجس میں تو چھوڑ کے اک قلب فسردہ کو اکیلے چل دی

راستہ مجھ کو نظر آئے نہ آئے پھر کیاان گنت پیڑوں کے میناروں کو

میں تو چھوتا ہی چلا جاؤں گااور پھر ختم نہ ہوگی یہ تلاش

جستجو روزن دیوار کی مرہون نہیں ہو سکتیمیں ہوں آزاد مجھے فکر نہیں ہے کوئی

ایک گھنگھور سکوں ایک کڑی تنہائیمرا اندوختہ ہے

— میراجی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں