19 اشعار

جسم کے اس پار

Jism ke us paar

جسم کے اس پار

«جسم کے اس پار» میراجی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

اندھیرے کمرے میں بیٹھا ہوںکہ بھولی بھٹکی کوئی کرن آ کے دیکھ پائے

مگر سدا سے اندھیرے کمرے کی رسم ہے کوئی بھی کرن آ کے دیکھ پائےبھلا یہ کیوں ہو

کوئی کرن اس کو دیکھ پائے تو اس گھڑی سےاندھیرا کمرہ اندھیرا نہیں رہے گا

وہ ٹوٹ کر تیرگی کا اک سیل بے کراں بن کے بہہ اٹھے گااور اس گھڑی سے اس اجالے کا کوئی مخزن بھی روک پائے بھلا یہ کیوں ہو

ہزار سالوں کے فاصلے سے یہ کہہ رہا ہوںہزاروں سالوں کے فاصلے سے مگر کوئی اس کو سن رہا ہے یہ کون جانے

سیاہ بالوں کی تیرگی میں تمہارا ماتھا چمک رہا ہےتمہاری آنکھوں میں اک کرن ناچ ناچ کر مجھ سے کہہ رہی ہے

کہ میرے ہونٹوں میں ہے وہ امرتہزاروں سالوں کے فاصلے سے جو رس رہا ہے

مگر یہ سب سال نور کے سال تو نہیں تیرگی کے بھی سال یہ نہیں ہیںیہ سال تو فاصلے کی پیچیدہ سلوٹیں ہیں

اندھیرا کمرہ اندھیرا کیوں ہےتمہارے بالوں کی تیرگی میں نگاہ گم ہے

یہ بند جوڑا جو کھل کے بکھرے تو پھر کرن بھی سنور کے نکھرےتمہارا ملبوس اک سپیدی پہ دھاریوں سے سجھا رہا ہے

اندھیرے کمرے میں جب کرن آئی تیرگی دھاریاں بنے گیاور اس کرن سے اندھیرا پل بھر اجالا بن کر پکار اٹھے گا

کہ بھولی بھٹکی یہاں کبھی تیرگی بھی آئےہزاروں سالوں کا فاصلہ تیرگی بنا ہے

تمہارے ہونٹوں پہ گیت کے پھول مسکرائے کہ تم نے اپنے لباس کو یوں اتار پھینکاکہ جیسے راگی نے تان لی ہو

تمہاری ہر تان تیرگی کی سیاہ دھارا بنی ہوئی ہےکوئی کرن اس سے پھوٹ پائے بھلا یہ کیوں ہو

سیاہ کمرہ تمہاری تانوں سے گونجتا ہےہزاروں سالوں سے گونجتا ہے

سیاہ کمرہ تمہارے بالوں کی تیرگی سے چمک رہا ہےسیاہ کمرہ لباس کی ہر اچھوتی کروٹ سے کہہ رہا ہے

یہاں تم آؤ یہاں کوئی تم کو دیکھ پائے نہیں یہ ممکنیہاں کرن آئی تو وہ فوراً اندھیرے کمرے میں جا چھپے گی

اور اس پہ دھارا لباس کی یوں بہے گی جیسےاندھیرا کمرہ اندھیرا کمرہ کبھی نہیں تھا

وہ اک کرن تھی

— میراجی