8 اشعار

نارسائی

Nārāsāī

نارسائی

«نارسائی» میراجی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 9 سیکنڈ ہے۔

رات اندھیری بن ہے سونا کوئی نہیں ہے ساتھپون جھکولے پیڑ ہلائیں تھر تھر کانپیں پات

دل میں ڈر کا تیر چبھا ہے سینے پر ہے ہاتھرہ رہ کر سوچوں یوں کیسے پوری ہوگی رات

برکھا رت ہے اور جوانی لہروں کا طوفانپیتم ہے نادان مرا دل رسموں سے انجان

کوئی نہیں جو بات سجھائے کیسے ہوں سامانبھگون مجھ کو راہ دکھا دے مجھ کو دے دے گیان

چپو ٹوٹے ناؤ پرانی دور ہے کھیون ہاربیری ہیں ندی کی موجیں اور پیتم اس پار

سن لے سن کے دکھ میں پکارے اک پریمی بچاراکیسے جاؤں کیسے پہنچوں کیسے جتاؤں پیار

کیسے اپنے دل سے مٹاؤں برہ اگن کا روگکیسے سجھاؤں پریم پہیلی کیسے کروں سنجوگ

بات کی گھڑیاں بیت نہ جایں دور ہے اس کا دیسدور دیس ہے پیتم کا اور میں بدلے ہوں بھیس

— میراجی