10 اشعار

کئی ستارے چمک رہے ہیں

Kayi Sitare Chamak Rahe Hain

کئی ستارے چمک رہے ہیں

«کئی ستارے چمک رہے ہیں» میراجی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

لرز لرز کر دمک رہے ہیںمگر جب آئے گا دن کا چیتا

اور ان ستاروں کا وقت بیتاتو آسمان کے نکیلے جگنو

بنیں گے پل میں ڈھلکتے آنسوسحر کے پردے میں جا چھپیں گے

میں اور تو آج ہیں اکٹھےسنا رہی ہے تری جوانی

مجھے مرے عشق کی کہانیمگر ہے اک خوف سا فضا میں

ہے ایک لرزش سی اس ہوا میںستارے اب ٹمٹما رہے ہیں

خزاں کے آثار چھا رہے ہیںمجھے یہ محسوس ہو رہا ہے

کہ اب ستاروں کا وقت بیتابس اب تو آئے گا دن کا چیتا

اب آسمان کے نکیلے جگنویہ دست انجم کے پیارے آہو

سحر کے پردے میں جا چھپیں گے

— میراجی