11 اشعار

الجھن کی کہانی

Uljhan Ki Kahani

الجھن کی کہانی

«الجھن کی کہانی» میراجی کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «میر ملے تھے میرا جی سے باتوں سے ہم جان گئے میرا جی» میں 29 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 34 سیکنڈ ہے۔

ایک اکہرا دوسرا دہرا تیسرا ہے سو تہرا ہےایک اکہرے پر پل پل کو دھیان کا خونیں پہرہ ہے

دوسرے دوہرے کے رستے میں تیسرا کھیل کا مہرہ ہےتیسرا تہرہ جو ہے اس کا سب سے اجاگر چہرہ ہے

گویا اکہرا پہرا دہرہ مہرا، تہرا چہرہ ہےایک اکہرا کاغذ دہرا تہرا ہو کر ناؤ بنی

ناؤ سے پل بھر بچے بہلے کھیل کھیل میں گھاؤ بنیگھاؤ بنی تو دل میں دھیان یہ آیا کہہ دیں آؤ بنی

بن بن کر جو کھیل بگڑ جاتے ہیں ان کی بات نہیںکوئی جنازہ بھی یہ نہیں ہے اور کوئی بارات نہیں

یہ اک ایسا دن ہے جس کے آگے پیچھے رات نہیںتہرے کی ہر تہہ میں یوں تو ایک نیا ہی چہرا ہے

لیکن ہر ایک چہرا اس بن کھیلے کھیل کا مہرا ہےجس کا رنگ اکہرا ہے

آگے بات بڑھائیں کیسے بات بنے تو بات بڑھےاب تک رنگ اکہرا تھا گر کوئی بڑھا تو ہاتھ بڑھے

ہونی کی تو ریت یہی ہے چھوٹے دن کی رات بڑھےاب تو جو بھی بڑھنا چاہے اپنے ساتھ ہی ساتھ بڑھے

آگے پیچھے دوڑ دوڑ کر اک آگے اک پیچھے ہےپیچھے والا کیسے بڑھے جب آگے والا بھی دوڑے

دونوں چوٹ برابر کی ہیں یہ دونوں سے کون کہےہار اور جیت اسی میں ہے اب کون رکے اور کون بڑھے

— میراجی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں