12 اشعار

مجھے گھر یاد آتا ہے

Mujhe Ghar Yaad Aata Hai

مجھے گھر یاد آتا ہے

«مجھے گھر یاد آتا ہے» میراجی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 33 سیکنڈ ہے۔

سمٹ کر کس لیے نقطہ نہیں بنتی زمیں کہہ دویہ پھیلا آسماں اس وقت کیوں دل کو لبھاتا تھا

ہر اک سمت اب انوکھے لوگ ہیں اور ان کی باتیں ہیںکوئی دل سے پھسل جاتی کوئی سینہ میں چبھ جاتی

انہی باتوں کی لہروں پر بہا جاتا ہے یہ بجراجسے ساحل نہیں ملتا

میں جس کے سامنے آؤں مجھے لازم ہے ہلکی مسکراہٹ میں کہیں یہ ہونٹ تم کوجانتا ہوں دل کہے 'کب چاہتا ہوں میں'

انہی لہروں پہ بہتا ہوں مجھے ساحل نہیں ملتاسمٹ کر کس لیے نقطہ نہیں بنتی زمیں کہہ دو

وہ کیسی مسکراہٹ تھی بہن کی مسکراہٹ تھی، میرا بھائی بھی ہنستا تھاوہ ہنستا تھا بہن ہنستی ہے اپنے دل میں کہتی ہے

یہ کیسی بات بھائی نے کہی دیکھو وہ اماں اور ابا کو ہنسی آئیمگر یوں وقت بہتا ہے تماشا بن گیا ساحل

مجھے ساحل نہیں ملتاسمٹ کر کس لیے نقطہ نہیں بنتی زمیں کہہ دو

یہ کیسا پھیر ہے تقدیر کا یہ پھیر تو شاید نہیں لیکنیہ پھیلا آسماں اس وقت کیوں دل کو لبھاتا ہے

حیات مختصر سب کی بہی جاتی ہے اور میں بھیہر اک کو دیکھتا ہوں مسکراتا ہے کہ ہنستا ہے

کوئی ہنستا نظر آئے کوئی روتا نظر آئےمیں سب کو دیکھتا ہوں دیکھ کر خاموش رہتا ہوں

مجھے ساحل نہیں ملتا

— میراجی