31 اشعار

اونچا مکان

Ooncha Makaan

اونچا مکان

«اونچا مکان» میراجی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 3 منٹ 46 سیکنڈ ہے۔

بے شمار آنکھوں کو چہرے میں لگائے ہوئے استادہ ہے تعمیر کا اک نقش عجیباے تمدن کے نقیب!

تیری صورت ہے مہیب!ذہن انسانی کا طوفان کھڑا ہے گویا

ڈھل کے لہروں میں کئی گیت سنائی مجھے دیتے ہیں مگران میں اک جوش ہے بیداد کا فریاد کا اک عکس دراز

اور الفاظ میں افسانے ہیں بے خوابی کےکیا کوئی روح حزیں

ترے سینے میں بھی بے تاب ہے تہذیب کے رخشندہ نگیںگھٹ کے لہریں ترے گیتوں کی سنیں مجھ کو نظر آنے لگا

ایک تلخابہ کسی بادۂ بد رنگ کا اک ٹوٹے ہوئے ساغر میںنشۂ مے سے نظر دھندلی ہوئی جاتی ہے

رات کی تیرہ فضا کیوں مجھے گھبراتی ہے؟رات کی تیرہ فضا میں تری آنکھوں کی چمک مجھ کو ڈرا سکتی نہیں ہے میں تو

اس سے بھی بڑھ کے اندھیرے میں رہا کرتا تھااور اس تیرگیٔ روح میں درخشاں تھے ستارے دکھ کے

اور کبھی بھول میں ہر نجم درخشاں سے لپک اٹھتے تھے شعلے سکھ کےجیسے روزن سے ترے تان لپکتی ہوئی پھیلاتی ہے بازو اپنے

جذب کر لیتا ہے پھر اس کو خلا کا دامنیاد آنے لگے تنہائی میں بہتے ہوئے آنسو اپنے

وہی آنسو وہی شعلے سکھ کےلیکن اک خواب تھا اک خواب کی مانند لپک شالوں کی تھی

مری تخئیل کے پر طائر زخمی کے پروں کے مانندپھڑپھڑاتے ہوئے بے کار لرز اٹھتے ہیں

مرے اعضا کا تناؤ مجھے جینے ہی نہ دیتا تھا تڑپ کر ایک بارجستجو مجھ کو رہائی کی ہوا کرتی تھی

مگر افسوس کہ جب درد دوا بننے لگا مجھ سے وہ پابندی ہٹیاپنے اعصاب کو آسودہ بنانے کے لیے

بھول کر تیرگیٔ روح کو میں آ پہنچااس بلندی کے قدم میں نے لیے

جس پہ تو سیکڑوں آنکھوں کو جھپکتے ہوئے استادہ ہےترے بارے میں سنا رکھی تھیں لوگوں نے مجھے

کچھ حکایات عجیبمیں یہ سنتا تھا ترے جسم گراں بار میں بستر ہے بچھا

اور اک نازنیں لیٹی ہے وہاں تنہائیایک پھیکی سی تھکن بن کے گھسی جاتی ہے

ذہن میں اس کے مگر وہ بیتابمنتظر اس کی ہے پردہ لرزے

پیرہن ایک ڈھلکتا ہوا بادل بن جائےاور در آئے اک ان دیکھی انوکھی صورت

کچھ غرض اس کو نہیں ہے اس سےدل کو بھاتی ہے نہیں بھاتی ہے

آنے والے کی ادااس کا ہے ایک ہی مقصود وہ استادہ کرے

بحر اعصاب کی تعمیر کا اک نقش عجیبجس کی صورت سے کراہت آئے

اور وہ بن جائے ترا مد مقابل پل میںذہن انسانی کا طوفان کھڑا ہو جائے

اور وہ نازنیں بے ساختہ بے لاگ ارادے کے بغیرایک گرتی ہوئی دیوار نظر آنے لگے

شب کے بے روح تماشائی کوبھول کر اپنی تھکن کا نغمہ

مختصر لرزش چشم در سےریگ کے قصر کے مانند سبک سار کرے

بحر اعصاب کی تعمیر کا اک نقش عجیبایک گرتی ہوئی دیوار کی مانند لچک کھا جائے

یہ حکایات مرے ذہن میں اک بوئے خراماں بن کرجب کبھی چاہتی تھیں رقص کیا کرتی تھیں

اور اب دیکھتا ہوں سیکڑوں آنکھوں میں تریایک ہی چشم درخشاں مجھے آتی ہے نظر

کیا اسی چشم درخشاں میں ہے شعلہ سکھ کا؟ہاتھ سے اپنے اب اس آنکھ کو میں بند کیا چاہتا ہوں

— میراجی