24 اشعار

سہارا

Sahara

سہارا

«سہارا» میراجی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

اوس کی بوندوں میں نمکینی نہیںپھول گر چاہے کہ اپنی رات کے انجام کو

ایک ہی لمحے میں یکسر جان لےاس کو لازم ہے ہوا کے سرد جھونکے سے کہے

جاؤ اس کے آنسوؤں کو چوم لوآنسوؤں کو چوم کر محسوس یہ ہونے لگا

ایک آنسو ایک بوندایک پل میں ایک بحر نیلگوں

بن کے چھا جاتا ہے تنہا ناؤ پرکیا ہوا گر اوس کی بوندوں میں نمکینی نہیں

اوس کی بوندوں میں نمکینی اگر ہوتی تو کیاپھول اس میں تیرتے ہی تیرتے

اپنی منزل تک پہنچ سکتا نہ تھا اک ناؤ بن سکتا نہ تھاپھول کیا ہے تو کہ میں

پھول میں ہوں تو نہیںتو تو بحر نیلگوں میں ایک تنہا ناؤ ہے

بہتی جاتی ہے ذرا رکتی نہیںتجھ کو یہ معلوم کب ہے اوس کی بوندوں میں نمکینی نہیں

تو فقط باتوں کے بل پر اپنی راتوں کی رسیلی چھاؤں میںیہ سمجھتی ہے کہ ہر لمحہ اچانک پھیل کر

شش جہت پر دل دھڑکتے ہی میں یوں چھانے لگاجیسے اک ٹھہراؤ فرقت کی اندھیری رات میں

درد کے ہم دوش لذت کو بھی اکساتا رہےلے پیالہ تھام لے

اس میں باقی ہے ابھی زہر غمجس کو پی کر میں بھی اپنی زندگی سے بھاگتا پھرتا رہا

گفتگو سے فائدہ کچھ بھی نہیں لیکن مجھےہر اشارا دام ہے الفاظ کا

جس میں طائر پھڑ پھڑاتے چیختےچیختے ہی چیختے خاموش ہو جاتے ہوئے

جان لیتے ہیں کہ اب وہ رات ہی درماں بنے گی درد کے انبار کاجس کے بکھرے دامن صد چاک میں

پھول کی بھیگی ہوئی پتی پہ بوندیں اوس کیساتھ لاتی ہیں گداز روح کی ہلکی ملاحت کو جسے

چکھ کے کہتی ہے زباں کیوں اب کہواوس کی بوندوں میں نمکینی نہیں

دیکھ دورایک تنہا ناؤ بحر نیلگوں پہ رفتہ رفتہ بڑھتے بڑھتے آ رہی ہے پاس دیکھ

دور کی چیزیں بھی یوںباتوں باتوں میں قریب آ جائیں گی کیا تھی خبر

دیکھ تورشتۂ عہد تخیل بند تھا

کھلنے لگارفتہ رفتہ اک نئی صورت نظر آنے لگی

اک نئی صورت مگر کچھ نقش تو مانوس ہیںاور ہر لمحے سے ہر آنسو سے قصر نیلگوں استادہ ہے

دور اس کی چھت میں دو فانوس ہیں

— میراجی