17 اشعار

تن آسانی

Tan Aasani

تن آسانی

«تن آسانی» میراجی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 7 سیکنڈ ہے۔

غسل خانے میں وہ کہتی ہیں ہمیں چینی کی اینٹیں ہی پسند آتی ہیںچینی کی اینٹوں پہ وہ کہتی ہیں چھینٹا جو پڑے تو پل میں

ایک اک بوند بہت جلد پھسل جاتی ہےکوئی پوچھے کہ بھلا بوندوں کے یوں جلد پھسل جانے میں

کیا فائدہ ہےجب ضرورت ہوئی جی چاہا تو چپکے سے گئے اور نہا کر لوٹے

دھل دھلا کر یوں چلے آئے کہ جس طرح کسی جھیل کے پانی پہ کوئی مرغابیایک دم ڈبکی لگاتی ہے لگاتے ہی ابھر آتی ہے

اور پھر تیرتی جاتی ہے ذرا رکتی نہیںوہ یہ کہتی ہیں مگر چینی کی اینٹوں کا اگر فرش ہو دیواریں ہوں

دل یہ کہتا ہے کہ ہر چیز کا نکھرا ہوا رنگآنکھوں کو کتنا بھلا لگتا ہے

جیسے برسات میں تھم جاتے ہیں بادل جو برس کر تو ہر اک پھلوارییوں نظر آتی ہے

جیسے جانا ہو اسے اپنے کسی چاہنے والے سے کہیں ملنے کو جانا ہو مگرابھی کچھ سوچ میں ہو

کوئی پوچھے کہ بھلا چینی کی اینٹوں کو کسی سوچ سے کیا نسبت ہےچینی کی اینٹیں تو بے جان ہیں پھلواری میں ہر پھول کلی ہر پتہ

زیست کے نور سے لہراتا ہےپھول مرجھائے کلی کھلتی ہے

اور ہر پتہ نئے پھول کے گن گاتا ہےچینی کی اینٹیں کوئی گیت نہیں گا سکتیں

چینی کی اینٹیں تو خاموش رہا کرتی ہیںایسی خاموشی سے اکتا کے نہانے والا

کچھ اس انداز سے اک تان لگاتا ہے کہ لقمان ہی یاد آتا ہےجب میں یہ کہتا ہوں وہ پوچھتی ہیں

کوئی پوچھے تو بھلا تان کو لقمان سے کیا نسبت ہےاور میں کہتا ہوں لقمان کو لقمان کو یا تان کو رہنے دو چلو

اور کوئی بات کریںاور یوں لیٹے ہی رہتے ہیں کسی کے دل میں

دھیان آتا ہی نہیںغسل خانے میں قدم رکھیں نہا کر سوئیں

لیٹے لیٹے یوں ہی نیند آتی ہے سو جاتے ہیں

— میراجی