9 اشعار

آئے ہیں میرؔ کافر ہو کر خدا کے گھر میں

Ā'e haiñ Mīr kāfir ho kar Khudā ke ghar meñ

آئے ہیں میرؔ کافر ہو کر خدا کے گھر میں

«آئے ہیں میرؔ کافر ہو کر خدا کے گھر میں» میر تقی میر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 7 سیکنڈ ہے۔

آئے ہیں میرؔ کافر ہو کر خدا کے گھر میںپیشانی پر ہے قشقہ زنار ہے کمر میں

نازک بدن ہے کتنا وہ شوخ چشم دلبرجان اس کے تن کے آگے آتی نہیں نظر میں

سینے میں تیر اس کے ٹوٹے ہیں بے نہایتسوراخ پڑ گئے ہیں سارے مرے جگر میں

آئندہ شام کو ہم رویا کڑھا کریں گےمطلق اثر نہ دیکھا نالیدن سحر میں

بے سدھ پڑا رہوں ہوں اس مست ناز بن میںآتا ہے ہوش مجھ کو اب تو پہر پہر میں

سیرت سے گفتگو ہے کیا معتبر ہے صورتہے ایک سوکھی لکڑی جو بو نہ ہو اگر میں

ہمسایۂ مغاں میں مدت سے ہوں چنانچہاک شیرہ خانے کی ہے دیوار میرے گھر میں

اب صبح و شام شاید گریے پہ رنگ آوےرہتا ہے کچھ جھمکتا خوناب چشم تر میں

عالم میں آب و گل کے کیونکر نباہ ہوگااسباب گر پڑا ہے سارا مرا سفر میں

— میر تقی میر