9 اشعار

آگے جمال یار کے معذور ہو گیا

Aage jamal-e-yaar ke ma'zoor ho gaya

آگے جمال یار کے معذور ہو گیا

«آگے جمال یار کے معذور ہو گیا» میر تقی میر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 5 سیکنڈ ہے۔

آگے جمال یار کے معذور ہو گیاگل اک چمن میں دیدۂ بے نور ہو گیا

اک چشم منتظر ہے کہ دیکھے ہے کب سے راہجوں زخم تیری دوری میں ناسور ہو گیا

قسمت تو دیکھ شیخ کو جب لہر آئی تبدروازہ شیرہ خانے کا معمور ہو گیا

پہنچا قریب مرگ کے وہ صید ناقبولجو تیری صید گاہ سے ٹک دور ہو گیا

دیکھا یہ ناؤ نوش کہ نیش فراق سےسینہ تمام خانۂ زنبور ہو گیا

اس ماہ چاردہ کا چھپے عشق کیونکے آہاب تو تمام شہر میں مشہور ہو گیا

شاید کسو کے دل کو لگی اس گلی میں چوٹمیری بغل میں شیشۂ دل چور ہو گیا

لاشہ مرا تسلی نہ زیر زمیں ہواجب تک نہ آن کر وہ سر گور ہو گیا

دیکھا جو میں نے یار تو وہ میرؔ ہی نہیںتیرے غم فراق میں رنجور ہو گیا

— میر تقی میر