5 اشعار

راہ دور عشق میں روتا ہے کیا

Rah-e-door-e-ishq mein rota hai kya

راہ دور عشق میں روتا ہے کیا

«راہ دور عشق میں روتا ہے کیا» میر تقی میر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 40 سیکنڈ ہے۔

راہ دور عشق میں روتا ہے کیاآگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا

قافلے میں صبح کے اک شور ہےیعنی غافل ہم چلے سوتا ہے کیا

سبز ہوتی ہی نہیں یہ سرزمیںتخم خواہش دل میں تو بوتا ہے کیا

یہ نشان عشق ہیں جاتے نہیںداغ چھاتی کے عبث دھوتا ہے کیا

غیرت یوسف ہے یہ وقت عزیزمیرؔ اس کو رائیگاں کھوتا ہے کیا

— میر تقی میر